طاقتور سمندری طوفان ’کلمیگی‘ نے فلپائن میں تباہی پھیلانے کے بعد اب ویتنام کے ساحلی علاقوں کو نشانہ بنایا ہے، جس کے باعث حکومت نے ملک بھر میں ہنگامی حالت نافذ کر دی ہے۔
طوفان کے اثرات کے پیشِ نظر سینکڑوں پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں اور تعلیمی اداروں بشمول اسکول، کالجز اور یونیورسٹیاں بند رکھنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔ویتنامی سرکاری میڈیا کے مطابق، طوفان کی ہواؤں کی رفتار 92 میل فی گھنٹہ (149 کلومیٹر فی گھنٹہ) تک ریکارڈ کی گئی ہے، اور 2 لاکھ 60 ہزار سے زائد فوجی اہلکار امدادی کارروائیوں کے لیے الرٹ کر دیے گئے ہیں۔ حکام نے بتایا کہ ملک کے چھ بڑے ہوائی اڈے بند کر دیے گئے ہیں، جس کے نتیجے میں سینکڑوں پروازیں متاثر ہو سکتی ہیں۔ویتنام پہلے ہی ریکارڈ بارشوں اور سیلابوں سے متاثر ہے، اور اب اسے ایشیا کے اس سال کے سب سے طاقتور طوفان میں سے ایک کا سامنا ہے۔ وزارتِ ماحولیات کے مطابق، طوفان نے ڈاک لک اور جیا لائی صوبوں میں ٹکرانے کے بعد شدید بارشوں اور تیز ہواؤں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ قومی موسمیاتی محکمے نے خبردار کیا ہے کہ سات صوبوں اور شہروں میں آئندہ چھ گھنٹوں کے دوران سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ ہے۔مختلف علاقوں سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق، مکانات کی چھتیں اڑنے، درخت گرنے اور ہوٹلوں کی شیشے کی کھڑکیوں کے ٹوٹنے کی صورتیں دیکھی گئی ہیں۔
کوی نون کے علاقے میں مرکزی شاہراہوں پر درخت گر گئے ہیں، جبکہ ڈاک لک کے صوبے کے دو قصبوں کے مکینوں نے اپنے گھروں کے منہدم یا زیرِ آب آنے کی اطلاع دی ہے اور مدد کی اپیل کی ہے۔ ماہرین کے مطابق، یہ طوفان جنوبی بحیرہ چین میں 8 میٹر (26 فٹ) بلند لہریں پیدا کر سکتا ہے، جس سے ساحلی علاقوں میں مزید تباہی کا خطرہ ہے۔ ویتنامی حکومت نے شہریوں سے غیر ضروری سفر سے گریز کرنے اور امدادی اداروں کے ساتھ تعاون کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ جانی و مالی نقصان کو کم سے کم کیا جا سکے۔دوسری طرف، فلپائن میں بھی سمندری طوفان ’کلمیگی‘ نے وسطی علاقوں کو تباہ و برباد کر دیا ہے۔ مختلف حادثات میں 200 افراد ہلاک اور درجنوں لاپتہ ہو گئے ہیں۔ شہر سیبو میں سیلاب نے مکانات، گاڑیاں اور کنٹینرز بہا دیے ہیں۔ غیر ملکی خبر ایجنسیوں کے مطابق، اس طوفان کی ہواؤں کی رفتار 140 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زیادہ تھی، جس نے ہر چیز تہس نہس کر دی ہے۔ اس تباہی کے بعد، فلپائن کے صدر مارکوس نے ملک میں ہنگامی حالت نافذ کر دی ہے تاکہ امدادی کارروائیاں تیز کی جا سکیں۔