(بد ترین سموگ)لاہور سمیت 18 اضلاع میں تعلیمی ادارے بند

 نجی و سرکاری اداروں میں 50 فیصد ورک فرام ہوم ہوگا،31 جنوری تک ماسک پہننا لازمی ، پاکستان اور بھارت کے مل کر کام کرنے تک سموگ کا خاتمہ نہیں ہوگا:سینئر وزیر مریم اورنگزیب

لاہور،گوجرانوالا، فیصل آباد اور ملتان ڈویژنز کے 18 اضلاع کے سرکاری و نجی سکینڈری اور ہائر سکینڈری تعلیمی ادارے آج سے 17 نومبر تک بند رہیں گے،  ٹیوشن سینٹرز اور اکیڈمیز بھی بند،چاروں ڈویژنز میں آن لائن کلاسز لی جائیں گی ،نوٹیفکیشن جاری
لاہور(کرائم رپورٹر)سموگ کی تشویش ناک صورت حال پر پنجاب کے 4  ڈویژنز کے 18 اضلاع میں ہائر سکینڈری (بارہویں) تک تعلیمی ادارے بند کرکے آن لائن تعلیم کا حکم دے دیا گیا ہے۔محکمہ تعلیم  پنجاب نے سموگ کے باعث تعلیمی اداروں کی بندش کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔نوٹیفکیشن کے مطابق لاہور،گوجرانوالا، فیصل آباد اور ملتان ڈویژنز کے 18 اضلاع کے سرکاری و نجی سکینڈری اور ہائر سکینڈری تعلیمی ادارے آج جمعرات 7 نومبرسے17 نومبر تک بند رہیں گے۔ چاروں ڈویژنز میں آن لائن کلاسز لی جائیں گی۔نوٹیفکیشن کے مطابق ٹیوشن سینٹرز اور اکیڈمیز بھی 17 نومبرتک بند رہیں گی۔اس کے علاوہ  لاہور،گوجرانوالا، فیصل آباد اور ملتان ڈویژنز میں ماسک پہننا بھی لازمی قرار دیا گیا ہے۔ڈی جی ماحولیات عمران حامد شیخ نے نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ 31 جنوری تک سموگ سے متاثرہ علاقوں میں ماسک پہننا لازمی ہوگا۔ باہر نکلتے ہوئے ماسک پہننے کی پابندی کی جائے۔ سموگ سے متاثرہ علاقوں میں سانس کے امراض بڑھ رہے ہیں، لوگوں کو کیمیائی مادوں کے اثرات سے بچانے کے لیے ماسک کی پابندی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔سینئر وزیر پنجاب  مریم اورنگزیب کے مطابق نجی و سرکاری اداروں میں 50 فیصد "ورک فرام ہوم " ہوگا۔ مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے مل کر کام کرنے تک سموگ کا خاتمہ نہیں ہوگا۔