سموگ: تعلیمی ادارے مزید ایک ہفتہ بند

پنجاب کے سرکاری محکموں میں آدھے ملازمین دفاتر اور آدھے گھروں سے کام کرینگے ، لاہور ،ملتان میں ہیلتھ ایمر جنسی نافذ
لاہور(کرائم رپورٹر)پنجاب حکومت نے سموگ کی بگڑتی صورتحال کے باعث لاہور اور ملتان میں ہیلتھ ایمرجنسی نافذ کردی،ان دونوں شہروں میں 3دن جمعہ ،ہفتہ اور اتوارمکمل لاک ڈاوٓن ہوگا جبکہ 10دن تک تعمیرات پر پابندی ہوگی ،پنجاب بھر میں تعلیمی ادارے بھی مزید ایک ہفتے کیلئے بند کردئیے گئے سموگ کی بگڑتی صورتحال کو کنٹرول کرنے کے لئے پنجاب حکومت نیسرکاری محکموں میں ملازمین کی حاضری کو 50 فیصد کر دیا۔محکمہ سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن نے ملازمین کی پچاس فیصد حاضری پر منتقلی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا اورتمام سرکاری محکموں کو عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کردی ہے۔نوٹیفکیشن میں پچاس فیصد ملازمین کو ورک فرام ہوم کروائے جانے اور انٹر ڈیپارٹمنٹل میٹنگز کو آن لائن منتقل کئے جانے کی ہدایت کی گئی ہے۔پنجاب حکومت نے تمام اداروں کو نوٹیفکیشن ارسال کردیا گیا۔۔پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے پریس کانفرنس میں کہا کہ سموگ کی بگڑتی صورتحال پر لاہور اور ملتان میں ہیلتھ ایمرجنسی لگادی گئی ہے ، لاہور اور ملتان میں جمعہ، ہفتہ اور اتوار مکمل لاک ڈاوٓن ہوگا، دونوں شہروں میں ہفتے سے اگلے اتوار تک تعمیرات پر بھی پابندی ہوگی۔پنجاب بھرکے سکولوں میں بچوں کی چھٹیاں ایک ہفتہ بڑھا دی گئی ہیں ،ہائیرسیکنڈری اور یونیوسٹیوں کو آن لائن کر دیا گیا ،ریسٹونٹس شام 4بجے بند ہوں گے اور 8بجے تک صرف ٹیک اوے کی اجازت ہوگی ،سموگ پر سیاست نہیں کی جاسکتی یہ انسانی جانوں کا سوال ہے،کلاوٓسیڈنگ کیلئے بادل چاہئے ہوتے ہیں،حکومت تو قوانین پر عملدرآمدکررہی ہے لیکن شہریوں کوبھی اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے، شادیوں کے حوالے سے آئندہ سال کیلئے سٹیک ہولڈرز کے ساتھ پلاننگ کریں گے۔مریم اورنگزیب کا پریس کانفرنس میں کہناتھاکہ سموگ نیشنل ڈیزاسٹر کی حیثیت حاصل کرچکی ہے،یہی وجہ ہے کہ مارچ میں وزیراعلیٰ مریم نواز نے سموگ کے لئے 10سال کا منصوبہ بنایا تھا جس پر سب محکموں کو اہداف دے کرعملدرآمد شروع کیاگیا۔کل سپریم کورٹ کے سموگ کمیشن کے ممبران سے ملاقات کی اور ان سے سموگ کے بارے میں اقدامات پربات چیت کی،میں جج صاحب کو خود بھی بریفنگ دینا چاہتی ہوں۔ انہوں نے کہا کہ سموگ موت ہے،نہ چاہتے ہوئے سموگ ایس او پیر کی خلاف ورزی پر انڈسٹری کو بند کرناپڑتا ہے۔ لاہور اور ملتان میں ہیلتھ ایمرجنسی نافذ کررہے ہیں، ہسپتالوں میں اوپی ڈی شام8 بجے تک رہے گی، ہیلتھ ڈیسک اور ہسپتالوں میں سٹاف کی چھٹیاں منسوخ کردی ہیں۔سانس،گلے اور پھیپھڑوں کی بیماریوں سے متعلق ادویات کا سٹاک ہسپتالوں کو فراہم کردیا گیا ہے،ہیلتھ ایڈوائزری بھی جاری کردی گئی ہے۔مریم اورنگزیب نے عوام سے درخواست کی کہ موٹربائیکس پر سفر کم کریں کیونکہ یہ تین ما ہ کیلئے سموگ کی مینجمنٹ ہے اور اس وقت ہم سب کی صحت رسک پر ہے۔ آج سے سموگ کے خاتمے کیلئے ہم ڈی ٹوکس مہم شروع کررہے ہیں سب افراد،فنکاراور صحافی اس میں اپنا اپنا کردار اداکریں۔ حکومت کوگالیاں دینے سے کچھ نہیں ہوگا بلکہ حکومتی پالیسوں پو عمل کریں،بدھ کو سموگ کی صورت احوال کے مطابق آئندہ کیلئے فیصلے کرینگے۔پنجاب میں سموگ کے باعث اکتوبر میں سانس کے امراض میں مبتلا 19 لاکھ سے زائد افراد اسپتال لائے گئے۔نومبر کے 14 دنوں میں پنجاب بھر میں 7 لاکھ 7 ہزار 695 افراد پھیپھڑوں کی بیماریوں میں مبتلا ہوئے جبکہ دمے کے 47 ہزار 558 اور دل کے 5 ہزار 734 مریض رپورٹ ہوئے۔لاہور گزشتہ روز 637 ائیر کوالٹی انڈیکس کے ساتھ دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں سرفہرست تھا جبکہ اسلام آباد 264 کے ساتھ دوسرے اور راولپنڈی 253 کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہا۔لاہور میں پاکستان انجینئرنگ سروسز میں فضائی آلودگی سب سے زیادہ رہی اور اے کیو آئی 1218 ریکارڈ کیا گیا۔سموگ اور دھند کے باعث حدنگاہ صفر ہوگئی ،جس کے باعث موٹروے ایم 2 اسلام آباد سے لاہور تک ،ایم3 لاہور سے درخانہ ، ایم4 پنڈی بھٹیاں سے ملتان ،ایم5 کو ملتان سے جلال پور تک ، ایم 11 لاہور سے کامونکی تک جبکہ سیالکوٹ موٹروے سموگ کی وجہ سے بند رہی۔ پنجاب میں شدید دھند کی وجہ سے مختلف ایئر پورٹس کا فلائٹ آپریشن شدید متاثر ہوا ہے۔شدید دھند کے باعث 11 پروازیں منسوخ کردی گئی جبکہ 3 پروازوں کو متبادل ایئر پورٹس پر اتارا گیا اور 53 پروازیں تاخیر کا شکار ہیں۔ماہر نباتات محمد سرفراز نے بتایا کہ سنسویریا، منی پلانٹ اور گولڈن پام جیسے پودے گھروں میں لگا کر سموگ کو ختم کرسکتے ہیں، یہ پودے سستے ہیں اور رات کے اوقات میں بھی آکسیجن کا اخراج کرتے رہتے ہیں۔پی ایچ اے لاہور نے نرسریوں میں ایسے پودوں کی فروخت شروع کر دی ہے جو ماحول کو سازگار بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہوں۔