’دودھ کی رکھوالی بلی کے سپرد‘، آڈٹ افسر کو متعلقہ محکمہ میں تعینات کرکے آڈٹ کرانے کا انکشاف

’دودھ کی رکھوالی بلی کے سپرد‘، آڈٹ افسر کو متعلقہ محکمہ میں تعینات کرکے آڈٹ کرانے کا انکشاف

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) ون نے حالیہ پیش رفت میں انکشاف کیا ہے کہ آڈٹ کے حوالے سے ایک اہم معاملہ سامنے آیا ہے جس میں دودھ کی رکھوالی بلی کے سپرد کے مصداق، آڈٹ افسر کو متعلقہ محکمہ میں ڈیپوٹیشن پر تعینات کرکے آڈٹ کا کام سونپا گیا ہے۔

 اس اقدام پر پی اے سی حیران رہ گئی اور اس کے خلاف سخت ردعمل ظاہر کیا گیا ہے۔تفصیلات کے مطابق، آڈٹ ڈیپارٹمنٹ کے ایک افسر کو انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پنجاب میں ڈیپوٹیشن پر تعینات کیا گیا، جس سے متعلق پی اے سی نے شدید اعتراضات کیے ہیں۔ پی اے سی ون نے اس معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے لیتے ہوئے کہا ہے کہ اس تعیناتی کے بعد ہونے والا آڈٹ رسمی کارروائی کے زمرے میں آتا ہے اور اس کا کوئی خاص اثر نہیں رہتا۔پی اے سی کے رکن سعید اکبر نے اظہار کیا کہ حیرت کی بات ہے کہ آڈٹ کرنے والے افسر کو ڈیپوٹیشن پر کسی دوسرے ادارہ میں تعینات کیا گیا، جس سے آڈٹ کی صداقت اور شفافیت پر سوالات اٹھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی تعیناتیاں آڈٹ کے عمل کو متاثر کرسکتی ہیں اور ان کا مقصد شفافیت کو نقصان پہنچانا ہو سکتا ہے۔
اس معاملے پر پی اے سی کے چیئرمین افتخار چھچھر نے فوری طور پر تحقیقات کا حکم دے دیا ہے تاکہ معاملے کی مکمل چھان بین کی جا سکے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جا سکے۔ اس پیش رفت سے متعلقہ حکام اور آڈٹ کے عمل پر سوالات اٹھ رہے ہیں کہ کیا یہ تعیناتیاں واقعی شفاف اور منصفانہ ہیں یا کسی مفاداتی مقصد کے تحت کی گئی ہیں۔مجموعی طور پر یہ معاملہ حکومت اور آڈٹ اتھارٹی کے درمیان اعتماد کے بحران کی نشاندہی کرتا ہے اور شفافیت اور احتساب کے کردار پر سوالات اٹھاتا ہے۔ پی اے سی کی جانب سے تحقیقات کا اعلان اس بات کی نشاندہی ہے کہ قانون اور قواعد کی پاسداری کو یقینی بنانے کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں گے۔