کراچی کے علاقے لیاری میں حالیہ عمارت حادثے کے بعد سندھ حکومت نے فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (SBCA) کے متعلقہ افسر کو حادثے کے دن ہی معطل کر دیا ہے۔
یہ بات سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے وزیر محنت سعید غنی کے ہمراہ پریس کانفرنس میں کہی۔
شرجیل میمن کا بیان:
حادثے میں کسی سرکاری افسر کی غفلت یا کوتاہی ثابت ہوئی تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی اس وقت لیاری حادثے کی مکمل تحقیقات کر رہی ہے، جس کی رپورٹ دو دن کے اندر منظرِ عام پر لائی جائے گی۔انہوں نے واضح کیا کہ حکومت اس معاملے میں شفاف اور غیرجانبدار تحقیقات کو یقینی بنائے گی۔
سعید غنی کا مؤقف:
فی الحال وہ SBCA افسران معطل کیے گئے ہیں جو حادثے کے وقت متعلقہ علاقے میں تعینات تھے۔2022 میں جب عمارت کو مخدوش قرار دیا گیا تھا، اس وقت جو افسران تعینات تھے ان کی شناخت اور ذمہ داری کا تعین کیا جا رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ عمارت کی ناقص حالت سے متعلق ماضی میں دی گئی رپورٹوں اور فائلوں کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
آئندہ اقدامات:
کمشنر کراچی کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ شہر بھر میں موجود 51 انتہائی خطرناک عمارتوں کا فوری سروے مکمل کریں تاکہ مستقبل میں ایسے سانحات سے بچا جا سکے۔عوام سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ اگر کسی عمارت کی حالت خستہ محسوس کریں تو فوری طور پر ضلعی انتظامیہ یا SBCA کو مطلع کریں۔
پس منظر:
یاد رہے کہ لیاری میں چند روز قبل ایک رہائشی عمارت گرنے سے متعدد قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا تھا۔ اس واقعے نے نہ صرف سندھ حکومت بلکہ شہری انتظامیہ کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھا دیے تھے۔ عوامی دباؤ اور سوشل میڈیا پر بڑھتے ردعمل کے بعد حکومت نے تحقیقات تیز کر دی ہیں۔