پنجاب فوڈ اتھارٹی کی ٹیموں نے جعلی دودھ سپلائی کرنے والے ایک سپلائر کو رنگے ہاتھوں گرفتار کیا ہے۔
یہ کارروائی لاہور کے فاروق آباد کے نواحی علاقے میں انجام دی گئی، جہاں سے لاہور گوالمنڈی جانے والے رکشہ پر چھاپہ مارا گیا۔ اس دوران 705 لیٹر جعلی دودھ موقع پر تلف کر دیا گیا، جبکہ دو ملزمان کو حراست میں لیا گیا اور رکشہ و ڈرم کو بھی قبضے میں لے لیا گیا ہے۔ترجمان ڈی جی فوڈ اتھارٹی کے مطابق، ملزمان فاروق آباد کے نواحی علاقے سے لاہور گوالمنڈی میں جعلی دودھ سپلائی کر رہے تھے۔ ان کے خلاف کی جانے والی ٹیسٹ میں یہ ثابت ہوا کہ دودھ کے نام پر کیمیکلز سے تیار محلول لایا جا رہا تھا۔ عاصم جاوید، ڈی جی فوڈ اتھارٹی، کا کہنا ہے کہ یہ جعلی دودھ ایک خاص محلول تھا جسے پاوڈر، پانی، کیمیکلز اور ویجیٹیبل آئل سے تیار کیا گیا تھا، تاکہ دودھ جیسا ظاہری شکل دی جا سکے۔
منڈیالی علاقے میں طویل ریکی کے بعد یہ رکشہ پکڑا گیا، جس میں دودھ بردار سپلائی کرنے والا ڈرائیور بھاگنے کی کوشش کر رہا تھا، مگر ناکام رہ گیا اور اسے فوری طور پر گرفتار کر لیا گیا۔ اس کارروائی کا مقصد عوام کی صحت کے تحفظ اور جعلی دودھ کی سپلائی کے خلاف سخت کارروائی کرنا ہے تاکہ مارکیٹ سے یہ مضر صحت پروڈکٹس ختم کی جا سکیں۔