مشرقِ وسطیٰ میں آئل اور گیس کی تنصیبات پر حملوں کے بعد عالمی مارکیٹ میں توانائی کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
تیل کی قیمتوں کی صورتحال:
برینڈ کروڈ آئل کی قیمت بڑھ کر 119 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی، تاہم بعد میں تقریباً 106 ڈالر فی بیرل پر مستحکم ہوئی۔ویسٹ ٹیکسس انٹرمیڈیٹ (WTI) کی قیمت 93 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی۔
گیس کی قیمتوں کا بڑھنا:
یورپ اور برطانیہ میں گیس کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا۔برطانیہ میں گیس کی قیمتیں تقریباً 35 فیصد بڑھ گئیں، جبکہ ایران جنگ کے آغاز کے بعد یورپ میں گیس کی قیمت دوگنی ہو چکی ہے۔
ماہرین کا تجزیہ:
توانائی کی تنصیبات پر حملوں سے عالمی سپلائی متاثر ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
ایران کی جانب سے ردعمل:
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران نے اپنی غیر فوجی تنصیبات پر اسرائیلی حملوں کے جواب میں محدود ردعمل دیا ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران کے بنیادی ڈھانچے پر دوبارہ حملہ کیا گیا تو مزید سخت ردعمل دیا جائے گا۔ایران نے کہا کہ کسی بھی جنگی خاتمے کی صورت میں شہری علاقوں میں ہونے والے نقصانات کا ازالہ ضروری ہوگا۔