ایران سے مذاکرات کے اشارے پر عالمی منڈی میں خام تیل سستا، برینٹ کروڈ 4 ڈالر فی بیرل گر گیا

ایران سے مذاکرات کے اشارے پر عالمی منڈی میں خام تیل سستا، برینٹ کروڈ 4 ڈالر فی بیرل گر گیا

عالمی منڈی میں پیر کے روز خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی، جہاں برینٹ کروڈ تقریباً 4 ڈالر فی بیرل سستا ہو گیا۔

 قیمتوں میں یہ کمی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ جوہری تنازع کے حل کے لیے مذاکرات کو ترجیح دینے کے اشارے کے بعد سامنے آئی۔برینٹ کروڈ فیوچرز 4.08 ڈالر یا 4.64 فیصد کمی کے بعد 83.50 ڈالر فی بیرل پر آ گئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 4.01 ڈالر یا 4.74 فیصد کمی کے ساتھ 79.70 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرتا رہا۔گزشتہ ماہ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی، عمان کے قریب آئل ٹینکروں پر حملوں اور آبنائے ہرمز میں سیکیورٹی خدشات کے باعث تیل کی قیمتوں میں 20 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر کہا کہ ایران اور مشرقِ وسطیٰ کے دیگر ممالک نے ایک ایسے معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے مزید وقت مانگا ہے، جس سے آبنائے ہرمز دوبارہ کھلنے اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق تنازع کے حل کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔مارکیٹ تجزیہ کار ٹونی سائکامور کے مطابق سرمایہ کار اس ہفتے ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں ممکنہ پیش رفت پر نظر رکھے ہوئے ہیں، کیونکہ کسی بھی تعطل یا نئی کشیدگی کی صورت میں تیل کی قیمتیں دوبارہ بڑھ سکتی ہیں۔

دوسری جانب سعودی عرب کے خام تیل سے بھرے دو ٹینکر باب المندب سے گزر گئے، جبکہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت سست رہی۔ برطانیہ کی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز اتھارٹی نے گزشتہ دو روز کے دوران مزید تین ٹینکروں پر حملوں کی اطلاعات بھی جاری کی ہیں۔ادھر اوپیک پلس نے ستمبر سے یومیہ تقریباً ایک لاکھ 88 ہزار بیرل اضافی تیل پیدا کرنے کی منظوری دی ہے، تاہم ماہرین کے مطابق خلیجی خطے، روس اور قازقستان سے برآمدات میں ممکنہ رکاوٹوں کے باعث اس اضافے کے عالمی منڈی پر فوری اثرات محدود رہ سکتے ہیں۔