وزیراطلاعات عطا اللہ تارڑ نے عالمی نشریاتی اداروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے کبھی جارحیت میں پہل نہیں کی، لیکن اپنے دفاع کے لیے جوابی کارروائی کا حق رکھتا ہے۔
انہوں نے وضاحت دی کہ بھارت کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باوجود پاکستان ہمیشہ دفاعی موقف اختیار کرتا ہے، اور بھارتی حملوں کے جواب میں پاکستانی فوج نے بھرپور کارروائی کی ہے۔عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ انہیں پہلگام حملے کے بعد بھارت کی جانب سے حملے کا خدشہ تھا، اور یہ خدشہ درست ثابت ہوا جب بھارت نے پاکستان کے پانچ مختلف مقامات پر حملہ کیا۔ ان حملوں میں خواتین اور بچوں کی ہلاکتیں ہوئیں، جس پر پاکستان شدید افسوس کا اظہار کرتا ہے۔ تاہم، پاکستان کے لیے یہ ضروری تھا کہ وہ جوابی کارروائی کرے تاکہ دشمن کو یہ پیغام دیا جا سکے کہ پاکستان اپنی خودمختاری اور شہریوں کی حفاظت کے لیے کسی بھی قسم کی جارحیت کو برداشت نہیں کرے گا۔وزیراطلاعات نے مزید کہا کہ بھارت کی جانب سے پاکستان پر دہشت گردوں کے کیمپوں کا الزام لگایا گیا ہے، جو کہ بالکل بے بنیاد ہے۔ پہلگام کا واقعہ بھارتی سکیورٹی فورسز کی ناکامی کی وجہ سے ہوا تھا، کیونکہ وہ خود اپنے ہی علاقے میں دہشت گردوں کو روکنے میں ناکام رہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن اسٹیٹ ہے اور پاکستان نے اس جنگ میں 90 ہزار جانیں قربان کی ہیں۔
عطا اللہ تارڑ نے بھارت کے دہشت گردی میں ملوث ہونے کے واضح ثبوت بھی فراہم کیے، جن میں کلبھوشن یادیو کا ذکر کیا جو بھارت کا نیول آفیسر تھا اور پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ کلبھوشن یادیو کے حوالے سے پاکستان کے پاس بھارتی حکومت کے خلاف ٹھوس ثبوت ہیں۔وزیراطلاعات نے یہ بھی کہا کہ وزیراعظم نے عالمی سطح پر کئی ممالک کے سفراء سے ملاقات کی ہے اور پاکستان نے پہلگام واقعے کی غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کی پیشکش کی ہے۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان عالمی سطح پر سفارتی محاذ پر اپنی آواز بلند کرتا رہے گا اور بھارت کے جارحانہ اقدامات کا جواب دے گا۔وزیراطلاعات نے یہ بھی کہا کہ قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس طلب کیا گیا ہے، جس میں پاکستان کی خارجہ پالیسی اور دفاعی حکمت عملی پر غور کیا جائے گا۔