وزیراعظم شہباز شریف نے ملک کی حالیہ کشیدہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر آج شام ساڑھے تین بجے وفاقی کابینہ کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ اجلاس قومی سلامتی کمیٹی (NSC) کے حالیہ فیصلوں کی توثیق، موجودہ داخلی و خارجی چیلنجز پر غور اور آئندہ کے لائحہ عمل کی منظوری کے لیے طلب کیا گیا ہے۔
اجلاس کے اہم نکات:
قومی سلامتی کمیٹی کے فیصلوں کی توثیق:
وفاقی کابینہ NSC کی حالیہ میٹنگ میں کیے گئے فیصلوں کو باقاعدہ منظوری دے گی، جن میں ممکنہ دفاعی اقدامات اور علاقائی صورت حال سے نمٹنے کی حکمت عملی شامل ہیں۔
وزیراعظم کی بریفنگ:
وزیراعظم شہباز شریف وفاقی وزراء کو ملک کی موجودہ سیکیورٹی صورتحال سے آگاہ کریں گے اور اس سلسلے میں حکومت کی پالیسی اور سفارتی اقدامات پر اعتماد میں لیں گے۔
اداروں کی رپورٹس:
وزارتِ دفاع، وزارتِ داخلہ، اور انٹیلیجنس و سیکیورٹی اداروں کے سربراہان اجلاس میں تازہ ترین بریفنگز پیش کریں گے، جن میں پاک بھارت سرحدی صورتحال، ممکنہ خطرات، اور ان کے تدارک کے لیے کیے گئے اقدامات شامل ہوں گے۔
عوامی سطح پر اعلان کا امکان:
اجلاس کے بعد وفاقی حکومت قومی سلامتی سے متعلق چند اہم فیصلوں کو عوامی سطح پر لانے پر غور کرے گی تاکہ عوام کو اعتماد میں لیا جا سکے اور غیر یقینی کی صورتحال میں کمی آئے۔
پس منظر:
یہ اجلاس ایسے وقت میں طلب کیا گیا ہے جب حالیہ دنوں میں پاکستان اور بھارت کے درمیان سرحدی کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ لائن آف کنٹرول (LoC) اور ورکنگ باؤنڈری پر صورتحال حساس بتائی جا رہی ہے۔ بھارت کی جانب سے حالیہ فوجی نقل و حرکت اور بیانات کے بعد پاکستان نے اپنی دفاعی تیاریوں میں تیزی لائی ہے۔
امکان ہے کہ:
ملک میں کسی بھی غیر متوقع صورتحال سے نمٹنے کے لیے ایمرجنسی پلان پر بھی غور کیا جائے گا۔خارجہ محاذ پر چین، ترکی، سعودی عرب، اور دیگر دوست ممالک سے رابطوں پر بھی بریفنگ دی جائے گی۔