نئی دہلی / سری نگر: پاکستان کے شہری علاقوں، مساجد اور سویلین آبادی پر رات کے اندھیرے میں حملے کرنے کے بعد بھارت نے روایتی چالاکی اور واویلا کرتے ہوئے پاکستانی جوابی کارروائی میں مقبوضہ کشمیر میں 3 سویلین کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے۔
بین الاقوامی نیوز ایجنسیوں نے اطلاع دی ہے کہ بھارت کا کہنا ہے کہ پاکستانی فوج کی جوابی گولہ باری سے ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں 3 شہری مارے گئے۔ بھارتی فوج کا دعویٰ ہے کہ پاکستان "من مانی فائرنگ" کر رہا ہے اور لائن آف کنٹرول (LoC) کے پار بھارتی علاقوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔
بھارت کی جانب سے جارحیت کے بعد معصوم پاکستانی شہری نشانہ بنے
واضح رہے کہ گزشتہ شب بھارت نے پاکستان کے 6 مختلف مقامات پر بلااشتعال حملے کیے، جن میں 3 مساجد اور شہری علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ان حملوں میں 8 پاکستانی شہری شہید اور 35 زخمی ہوئے۔ حملوں کے دوران ایک معصوم بچی بھی شہید ہوئی، جبکہ احمد پور شرقیہ میں سب سے زیادہ جانی نقصان ہوا۔
بھارتی میڈیا اور فوج کا روایتی پراپیگنڈہ
بھارتی فوج اور میڈیا کی جانب سے ہمیشہ کی طرح یکطرفہ پراپیگنڈہ کرتے ہوئے پاکستان پر الزام تراشی کی جا رہی ہے، حالانکہ بھارت خود حملے کی ابتدا کر چکا تھا۔ پاکستان کی طرف سے کی گئی جوابی کارروائی عالمی قوانین کے تحت دفاعی حق کے زمرے میں آتی ہے، جس کا مقصد دشمن کو جارحیت سے باز رکھنا ہے۔
عالمی برادری کا امتحان
پاکستانی سیاسی و عسکری قیادت نے اقوام متحدہ اور عالمی انسانی حقوق کے اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ بھارت کے ان حملوں کا فوری نوٹس لیا جائے جن میں مذہبی مقامات، مساجد اور شہری آبادی کو دانستہ نشانہ بنایا گیا۔بین الاقوامی مبصرین کے مطابق، بھارت کی جانب سے اقوام عالم کی توجہ ہٹانے کے لیے پاکستان پر الزامات کی روایت کوئی نئی نہیں، تاہم اس بار پاکستان نے مؤثر اور بروقت جواب دے کر واضح کر دیا ہے کہ خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں۔