پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ کشیدگی میں ایک نیا موڑ آیا ہے، جب پاکستان نے بھارتی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے والے 12 ڈرونز کو مار گرایا۔
ان ڈرونز میں سے ایک نے لاہور کے قریب ایک فوجی تنصیب کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں چار پاکستانی فوجی زخمی ہوئے ۔پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (ڈی جی آئی ایس پی آر) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے اس کارروائی کو "پاکستان کی دفاعی صلاحیت کا مظاہرہ" قرار دیتے ہوئے کہا کہ تمام ڈرونز کو کامیابی سے مار گرایا گیا ہے اور ان کے ملبے کو تحویل میں لے لیا گیا ہے ۔یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب بھارت نے 6 اور 7 مئی کی رات کو پاکستان پر فضائی حملے کیے تھے، جس میں 31 پاکستانی شہری جاں بحق اور 46 زخمی ہوئے تھے ۔ پاکستان نے ان حملوں کو "بزدلانہ" قرار دیتے ہوئے جوابی کارروائی کا عہد کیا تھا۔
بین الاقوامی سطح پر بھی اس کشیدگی پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارتی حملوں کو "شرمناک" قرار دیتے ہوئے دونوں ممالک سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے ۔پاکستان نے اس صورتحال کے پیش نظر اپنی فضائی اور بری دفاعی صلاحیتوں کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔یہ کشیدگی دونوں ایٹمی طاقتوں کے درمیان امن اور استحکام کے لیے ایک سنگین چیلنج بن چکی ہے، اور عالمی برادری سے فوری مداخلت اور مذاکرات کی ضرورت ہے۔