سرینگر: پہلگام فالس فلیگ حملے کے بعد مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوج کی جانب سے کشمیری مسلمانوں پر بڑھتے ہوئے مظالم پر جموں و کشمیر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے مودی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
محبوبہ مفتی نے کہا کہ فالس فلیگ حملے کے بعد نہتے کشمیریوں کو دہشتگرد قرار دے کر ان پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کلگام میں دو روز قبل اغوا کیے گئے نوجوان امتیاز مغرے کی لاش دریا سے ملی ہے، جس کے ذمہ دار بھارتی سکیورٹی ادارے ہیں۔محبوبہ مفتی نے انکشاف کیا کہ باندی پورہ، کلگام اور دیگر علاقوں میں بھی بھارتی فورسز نے عام شہریوں کو نشانہ بنایا، ان کے گھروں پر چھاپے مارے، گرفتاریاں کیں اور کئی کو ماورائے عدالت قتل کر دیا۔انہوں نے مزید کہا کہ پہلگام حملے کی مکمل غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں تاکہ سچ عوام کے سامنے آ سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ حملہ مودی حکومت کا ایک سوچا سمجھا منصوبہ تھا تاکہ کشمیری مسلمانوں پر جبر کیا جا سکے اور عالمی توجہ اصل مسائل سے ہٹائی جا سکے۔
دفاعی ماہرین نے بھی اس حملے کو مودی سرکار کی خطرناک سازش قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پہلگام فالس فلیگ کا مقصد کشمیر میں بے گناہ مسلمانوں کو نشانہ بنانا ہے اور یہ انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔محبوبہ مفتی کی جانب سے کی جانے والی ان تنقیدوں میں ان کی حکومت کی جانب سے کشمیریوں پر روا رکھے جانے والے سلوک پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے، اور انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لے۔