پنجاب حکومت نے طویل المدتی عوامی مسائل کے حل کے لیے گلوبل اسٹینڈرڈ ڈویلپمنٹ پروگرام متعارف کروا دیا ہے، جس کے تحت صفائی، پانی کی فراہمی، سیوریج، سٹریٹ لائٹس اور مثالی گاؤں پراجیکٹس پر کام کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی زیر صدارت خصوصی ویڈیولنک اجلاس میں تمام پراجیکٹس کی پیشرفت کا جائزہ لیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ 70، 80 سال میں جو کام نہیں ہوئے، وہ آج کیے جا رہے ہیں اور پانچ سال کے بعد لاہور اور دیگر شہروں کو جدید اور خوبصورت انداز میں دیکھنا ممکن ہوگا۔
اہم اقدامات:
مون سون سے قبل نکاسی آب کے پراجیکٹس مکمل کرنے کی ہدایت، انڈرگراؤنڈ واٹر ٹینک، ریچارج ویلز اور ٹف ٹائلز لگائی جائیں گی۔
34 بڑے انڈرگراؤنڈ سٹوریج ٹینک بارشی پانی کے ذخیرے کے لیے بنائے جائیں گے۔
6,100 کلومیٹر سٹریٹ اور سیوریج لائنیں، 61 ڈسپوزل اسٹیشنز کی بحالی اور 56 نئے اسٹیشن تعمیر کیے جائیں گے۔
صوبے میں 328 ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس، 14,679 سٹریٹ لائٹس اور 33 ملین مربع فٹ ٹف ٹائلز بچھائی جائیں گی۔
شہری نکاسی آب اور دیگر کاموں کے لیے 526 جدید مشینیں فراہم کی جائیں گی۔
مثالی گاؤں پراجیکٹ:
485 دیہات میں 59 ارب روپے کی سکیمیں شروع کی جائیں گی، جبکہ 200 دیہات میں یہ منصوبہ عمل میں آئے گا۔
گندے پانی کے تالاب اور جوہڑ صاف کیے جائیں گے، پختہ گلیاں اور ڈرینج سسٹمز بنائے جائیں گے، اور ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس کے ذریعے پانی کی بحالی ممکن ہوگی۔
فلٹریشن پلانٹس کی فعالیت کو یقینی بنایا جائے گا اور پوٹھوہار میں سمال ڈیمز کے ذریعے صاف پانی کی فراہمی پر کام جاری ہے۔
مختلف شہروں میں صاف پانی کی بوتلیں فراہم کرنے کا منصوبہ بھی جاری ہے۔
وزیراعلیٰ مریم نواز نے کہا کہ اس تاریخی ڈویلپمنٹ پلان سے پنجاب بھر میں 78 سالہ پسماندگی کا خاتمہ ممکن ہوگا، اور پانچ سال کے دوران شہری اور دیہی علاقوں میں ترقی اور جدید سہولیات کی نئی مثال قائم ہوگی۔