وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے پنجاب کے اضلاع کو مالی اور انتظامی طور پر زیادہ خودمختار بنانے کے لیے ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ پلان کے تحت مقامی ریونیو سے اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دے دی۔
اس مقصد کے لیے ایک اہم اجلاس میں ساہیوال، سرگودھا، فیصل آباد اور ملتان ڈویژن کے کمشنرز نے اپنے علاقوں کے وسائل اور مجوزہ منصوبوں پر بریفنگ دی۔اجلاس کے دوران وزیراعلیٰ نے افسران کو واضح پیغام دیتے ہوئے کہا کہ صرف نمائشی اقدامات کے بجائے حقیقی گراؤنڈ ورک ہونا چاہیے۔ انہوں نے کمشنرز کو ہدایت کی کہ وہ دفاتر تک محدود رہنے کے بجائے فیلڈ میں جا کر ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی کریں۔
فیصل آباد میں ایک بچی کے کھلے گڑھے میں گر کر جاں بحق ہونے کے واقعے پر وزیراعلیٰ نے سخت برہمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے حکم دیا کہ اگر کوئی شہری مین ہول میں گرا تو متعلقہ ہاؤسنگ سوسائٹی مالکان کے خلاف کارروائی ہوگی۔ اس کے ساتھ پنجاب بھر کی نجی ہاؤسنگ سوسائٹیز سے ہر ماہ کھلے مین ہول نہ ہونے کا بیانِ حلفی لینے اور تمام سوسائٹیز کو نوٹس جاری کرنے کی ہدایت بھی دی گئی۔
وزیراعلیٰ نے سرکاری و نجی اسکولوں کی عمارتوں کی مانیٹرنگ، تعمیراتی مقامات کو ایس او پیز کے مطابق محفوظ بنانے اور تمام تحصیلوں میں ڈیپ کلیننگ یقینی بنانے کے احکامات بھی جاری کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ “اگر اختیار انتظامیہ کے پاس ہے تو ذمہ داری بھی انہی پر عائد ہوتی ہے۔”
بریفنگ کے مطابق ساہیوال ڈویژن کے لیے لوکل گورنمنٹ کے 4 ارب روپے کے فنڈز دستیاب ہیں، جبکہ پرانی شہری سڑکوں کی جدید معیار کے مطابق تعمیرِ نو کی جائے گی۔ وزیراعلیٰ نے ساہیوال میں عالمی معیار کی سڑکیں، فٹ پاتھ اور خوبصورت انٹری پوائنٹس بنانے کی ہدایت دی۔
اوکاڑہ میں مین اکبر روڈ پر سولر اسٹریٹ لائٹس اور جناح اسٹیڈیم میں فلڈ لائٹس لگانے جبکہ پاکپتن میں نہروں کے کناروں کی خوبصورتی اور سولر لائٹس کی تنصیب کے احکامات بھی جاری کیے گئے۔ ساہیوال ڈویژن کی تمام 17 ترقیاتی اسکیمیں ستمبر 2026 تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
اسی طرح سرگودھا ڈویژن کے لیے 2.8 ارب روپے کے ریونیو سے ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دی گئی۔ وزیراعلیٰ نے سرگودھا میں سیف سٹی کیمروں کی تنصیب تیز کرنے، بھکر کی شہری سڑکوں کی اپ گریڈیشن اور قائد آباد میں فیملی پارک اور بس اسٹینڈ کی تعمیر کی ہدایات بھی جاری کیں۔
اجلاس کے اختتام پر وزیراعلیٰ پنجاب نے زور دیا کہ پورے صوبے میں ترقیاتی منصوبوں کا معیار یکساں رکھا جائے اور کسی بھی منصوبے میں ناقص کام برداشت نہیں کیا جائے گا۔