پنجاب بھر میں سیوریج ڈی سلٹنگ مہم یکم دسمبر سے شروع کرنے کا فیصلہ

پنجاب بھر میں سیوریج ڈی سلٹنگ مہم یکم دسمبر سے شروع کرنے کا فیصلہ

لاہور سمیت پنجاب کے تمام اضلاع میں موسمِ سرما کے دوران سیوریج ڈی سلٹنگ مہم شروع کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔

 مہم یکم دسمبر سے 31 دسمبر 2026 تک جاری رہے گی، جس کے دوران سیوریج لائنوں اور ڈرینز میں جمع ہونے والی مٹی، گاد اور دیگر فضلے کی صفائی کی جائے گی۔محکمہ ہاؤسنگ کے ترجمان کے مطابق موسمِ سرما کے دوران سیوریج لائنوں اور ڈرینز میں سِلٹ جمع ہونے اور جم جانے کے باعث نکاسی آب کا نظام متاثر ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔ اسی وجہ سے صوبے بھر میں بروقت صفائی کو یقینی بنانے کے لیے خصوصی مہم چلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ترجمان کا کہنا ہے کہ مہم کا مقصد سیوریج نظام کی کارکردگی بہتر بنانا، نکاسی آب میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنا اور شہری علاقوں میں سیوریج سے متعلق مسائل کی روک تھام کرنا ہے۔ اس سلسلے میں متعلقہ اداروں کو سیوریج لائنوں اور ڈرینز کی صفائی پر خصوصی توجہ دینے کی ہدایت کی جائے گی۔

گرمیوں میں بھی ڈی سلٹنگ کا عمل جاری رہے گا

محکمہ ہاؤسنگ کے ترجمان کے مطابق واسا کی متعلقہ ایجنسیاں معمول کے مطابق گرمیوں میں بھی ڈی سلٹنگ کا عمل جاری رکھیں گی، تاکہ سیوریج لائنوں میں سِلٹ جمع ہونے سے پیدا ہونے والی رکاوٹوں کو بروقت دور کیا جا سکے۔حکام کے مطابق سیوریج لائنوں اور ڈرینز کی باقاعدگی سے صفائی نکاسی آب کے نظام کو بہتر رکھنے کے لیے ضروری ہے۔ اگر ان لائنوں میں گاد اور دیگر فضلہ جمع ہوتا رہے تو پانی کی روانی متاثر ہوسکتی ہے، جس سے شہری علاقوں میں نکاسی آب کے مسائل پیدا ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔

گزشتہ سال لاکھوں ٹن سِلٹ جمع کی گئی

محکمہ ہاؤسنگ کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال ڈی سلٹنگ مہم کے دوران پنجاب کے مختلف اضلاع میں بڑے پیمانے پر صفائی کی گئی تھی۔

گزشتہ مہم کے دوران:

4,273 کلومیٹر سے زائد سیوریج لائنوں کی صفائی کی گئی۔
806 کلومیٹر سے زائد ڈرینز کو صاف کیا گیا۔
2 لاکھ 36 ہزار 57 مین ہولز کی صفائی کی گئی۔
7 لاکھ 59 ہزار 748 ٹن سے زائد سِلٹ جمع کی گئی۔
حکام کے مطابق ان اقدامات کا مقصد سیوریج کے نظام کو بہتر بنانا اور نکاسی آب کی رکاوٹوں کو دور کرنا تھا۔

تمام اضلاع میں صفائی کے انتظامات پر توجہ

نئی مہم کے تحت لاہور سمیت پنجاب کے تمام اضلاع میں سیوریج لائنوں، ڈرینز اور مین ہولز کی صفائی پر توجہ دی جائے گی۔ متعلقہ اداروں کی جانب سے صفائی کے کام کو مؤثر انداز میں مکمل کرنا اہم ہوگا، تاکہ شہریوں کو نکاسی آب سے متعلق مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔