ترقیاتی اور عوامی سہولت منصوبوں کیلئے اربوں روپے گرانٹس کی منظوری

 ؁اسلام آباد ( آن لائن ) وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی  کا اجلاس  ہوا، جس میں ملک کے اہم مالیاتی اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے متعدد گرانٹس اور اقدامات کی منظوری دی گئی۔اجلاس میں پاکستان کی انٹرنیشنل انرجی فورم میں سالانہ رکنیت کے لیے 13.1 ملین روپے کی ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ کی منظوری دی گئی۔ اس کے علاوہ، گیس فیلڈز کے پانچ کلومیٹر کے اندر دیہاتوں کو گیس کی فراہمی کے لیے 3 ارب روپے کی سپلیمنٹری گرانٹ بھی منظور کی گئی، جس کے تحت سوئی سدرن اور سوئی ناردرن گیس کمپنیز کے ذریعے نئی گیس اسکیمیں شروع کی جائیں گی۔بنیادی تعلیمی کمیونٹی اسکولز کے اساتذہ کے واجبات کی ادائیگی کے لیے 200 ملین روپے کی سپلیمنٹری گرانٹ بھی ای سی سی نے منظور کی، جس کے تحت عدالت کے احکامات کے مطابق 2017 سے 2021 تک اساتذہ کی تنخواہوں کے فرق کی ادائیگی کی جائے گی۔ای سی سی نے ایچ ای سی کو عالمی بینک کے منصوبے کے تحت اضافی 4 ملین ڈالر کے لیے ری لینڈنگ شرائط سے استثنیٰ دینے کی منظوری دی۔ مزید برآں، این ڈی ایم اے کے مون سون 2025 آپریشنز اور بیرون ملک انسانی امداد کے اخراجات کے لیے 3.63 ارب روپے بھی منظور کیے گئے۔پاور ڈویڑن کے ایس ڈی جیز پروگرام منصوبوں کے لیے 1.3 ارب روپے کی ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ دی گئی جبکہ بجلی کی پیداواری لاگت کم کرنے اور گردشی قرضے کے مسئلے کے حل کے لیے پاور سیکٹر اصلاحاتی پیکج بھی منظور کیا گیا۔