سپلائی میں50فیصد کمی‘پٹرول32 ‘ڈیزل50 روپے لٹر مہنگا ہونیکا امکان پیر سے پمپ بند ہونا شروع ہو جائیں گے:ڈیلرزایسوسی ایشن

ملک میں پٹرول کی سپلائی  50 فیصد تک گر چکی ‘ ڈیزل کی فراہمی 20 فیصد رہ گئی ہے، جس سے ٹرانسپورٹ کے شعبے میں شدید مشکلات پیدا ہونے کا خدشہ ہے:پٹرولیم ایسوسی ایشن
 قطر سے ایل این جی کی سپلائی بند ہونے پر کھاد کمپنیوں   نے پیداوار بند کر دی‘پاکستان کا راس تنورہ پورٹ بند ہونے کے بعد سعودی پورٹ سے تیل لینے کا فیصلہ
 لاہور‘اسلام آباد(آن لائن‘آئی این پی) پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے خبردار کیا ہے کہ اگر پیٹرولیم مصنوعات کی سپلائی جلد بحال نہ ہوئی تو پیر سے ملک بھر میں پیٹرول پمپس بند ہونے کا سلسلہ شروع ہو سکتا ہے۔ ایسوسی ایشن کے مرکزی سیکرٹری جنرل چودھری  عرفان الٰہی نے کہا  ملک میں پیٹرول کی سپلائی تقریباً 50 فیصد تک گر چکی ہے جبکہ ڈیزل کی فراہمی صرف 20 فیصد رہ گئی ہے، جس سے ٹرانسپورٹ کے شعبے میں شدید مشکلات پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔لاہور کے صدر جہانزیب ملک اور وسطی پنجاب کے صدر نعمان مجید نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ریٹیل آؤٹ لیٹس کو پیٹرول کی بلاتعطل فراہمی یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے انتظامیہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ معائنے کے نام پر سپلائی ڈپوؤں کے بجائے پیٹرول پمپوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور بعض نجی کمپنیوں نے پیٹرولیم مصنوعات ذخیرہ کر کے مصنوعی قلت پیدا کرنے کی کوششیں شروع کر دی ہیں‘دریں اثناء پاکستان کو قطر سے ایل این جی کی سپلائی میں 75 فیصد کمی  ‘   ملک میں زراعت کے شعبے کے متاثر ہونے کا خدشہ  ہے،  گیس کی قلت کے باعث کھاد کمپنیوں نے پیداوار بند کر دی ۔ذرائع کے  مطابق کھاد بنانے والی بڑی کمپنی ایگری ٹیک نے یوریا پلانٹ بند کر دیا ہے‘دریں اثناء پاکستان نے راستنورہ پورٹ بند ہونے کے بعد بحیرہ  احمر  میں سعودی پورٹ سے تیل لینیکا فیصلہ کرلیا۔ذرائع کے مطابق زائد تیل نکالنے کیلئے ملکی ریفائنریز حکمت عملی تیار کررہی ہیں۔ پیٹرول بچت کیلئے ورک فرام ہوم پر بھی غور کیا جارہا ہے۔انڈسٹری ذرائع نے بتایا کہ دیگر ذرائع سے ایل این جی بہت مہنگی ہے، مہنگی ایل این جی کے بجائے بندکنوں سے پیداوار لینے پر غور کیا جارہا ہے۔ذرائع کے مطابق پیٹرول خریداری سنگاپور سے کرنے پر بھی غور کیا جارہا ہے۔