بھارت عالمی سطح پر منشیات کی اسمگلنگ کا بڑا مرکز بن چکا ہے، جہاں سے غیر قانونی نشہ آور اشیاء امریکا، افریقہ اور وسطی امریکہ تک اسمگل کی جا رہی ہیں۔
اقوام متحدہ کی اینٹی ڈرگ ایجنسی (UNODC) کے مطابق، بھارت غیر قانونی منشیات اور کیمیکلز کی سپلائی کا اہم حب ہے، اور اس ملک سے منشیات کی اسمگلنگ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔حال ہی میں امریکی محکمہ انصاف نے بھارت کی دو کیمیکل کمپنیوں پر امریکا اور میکسیکو میں فینٹینائل کی اسمگلنگ کے الزامات عائد کیے ہیں۔ گجرات میں قائم اتھوس کیمیکلز اور راکسوٹر کیمیکلز کو نیویارک کے بروکلین میں فینٹینائل کے اجزاء تقسیم کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔ اس معاملے میں بھاویش لاتھیا، جو راکسوٹر کمپنی کے سینئر ایگزیکٹو ہیں، کو نیویارک میں گرفتار کر لیا گیا۔تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ بھارت سے فینٹینائل کی اسمگلنگ میکسیکو، امریکا، افریقہ اور وسطی امریکہ تک کی جارہی تھی۔ فینٹینائل ایک انتہائی خطرناک مصنوعی افیون ہے جو ہیروئن سے 50 گنا اور مورفین سے 100 گنا زیادہ طاقتور ہے۔ امریکی سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن (CDC) کے مطابق، 2022 میں امریکا میں 82 ہزار اموات کی وجہ بھارتی فینٹینائل بنی۔
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق، بھارت وسطی افریقہ میں غیر قانونی منشیات سپلائی کرنے والا سب سے بڑا ملک بن چکا ہے۔ 2023 میں نائیجیریا کی منشیات کنٹرول ایجنسی (NDLEA) نے بھارت سے اسمگل کی گئی 100 ملین ڈالر مالیت کی غیر قانونی افیون ضبط کی۔ نائیجیریا میں 40 لاکھ سے زائد افراد بھارتی اسمگل شدہ افیون استعمال کر رہے ہیں، جو نشہ آور ادویات کی شکل میں فروخت ہوتی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارتی حکام امریکا اور افریقی ممالک کو سپلائی ہونے والی غیر قانونی منشیات پر مناسب توجہ نہیں دیتے کیونکہ بھارت کی مقامی ایجنسیاں بھی اس نیٹ ورک میں ملوث ہیں۔ بھارت میں تیار ہونے والی یہ غیر قانونی منشیات کروڑوں کا منافع کماتی ہیں، لیکن لاکھوں زندگیاں برباد کر رہی ہیں۔ ان تمام انکشافات کے باوجود مودی حکومت اس پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے، جس سے بھارت دنیا میں منشیات اسمگلنگ کے سب سے بڑے مراکز میں شامل ہو چکا ہے۔