قصور کے سرحدی علاقے میں ڈرون کے ذریعے منشیات کی اسمگلنگ عروج پر پہنچ گئی

قصور کے سرحدی علاقے میں ڈرون کے ذریعے منشیات کی اسمگلنگ عروج پر پہنچ گئی

لاہور: قصور کے سرحدی علاقے میں منشیات کی اسمگلنگ میں اضافہ

قصور کے گنڈا سنگھ منڈی عثمان والا اور اس کے ارد گرد کے سرحدی دیہات میں منشیات کی اسمگلنگ کا کاروبار عروج پر پہنچ چکا ہے۔ رپورٹوں کے مطابق، منشیات کو ڈرون کے ذریعے سرحد پار اسمگل کیا جا رہا ہے، جبکہ پولیس کی کارکردگی صرف کاغذی کارروائی تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ڈرون کے ذریعے ہیروئن، چرس، افیون اور آئس جیسے منشیات کو بارڈر کراسنگ پوائنٹس کے ذریعے اسمگل کیا جا رہا ہے۔ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی سرگرمیوں کو صرف پریس ریلیز تک محدود رکھتے ہیں، جبکہ عملی طور پر منشیات کی فروخت اور اسمگلنگ عروج پر ہے۔یہ کاروبار نہ صرف علاقے کی نوجوان نسل کو تباہ کر رہا ہے بلکہ اسکولز اور کالجز تک منشیات کی فروخت بھی ہو رہی ہے۔

عوامی حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ قصور کے سرحدی علاقوں میں منشیات فروشی اور اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے فوری طور پر کارروائی کی جائے، اور اس مقصد کے لیے اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) کو سخت آپریشن کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ان منفی سرگرمیوں کا خاتمہ کیا جا سکے۔منشیات کی اسمگلنگ نے نہ صرف مقامی کمیونٹی کو شدید متاثر کیا ہے بلکہ اس کے اثرات علاقے کی نوجوان نسل پر بھی مرتب ہو رہے ہیں، جس سے ان کا مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے۔