وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت نجکاری کے عمل کو تیز کر رہی ہے اور اس مقصد کے لیے مزید 28 ریاستی ادارے نجکاری کمیشن کے سپرد کر دیے گئے ہیں۔
پاکستان بینکس ایسوسی ایشن کے تحت منعقدہ پاکستان بینکنگ سمٹ 2026 سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ گزشتہ مالی سال کا اختتام مضبوط معاشی استحکام کے ساتھ ہوا، جی ڈی پی کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی، جبکہ ترسیلاتِ زر 41 سے 42 ارب ڈالر رہنے کا تخمینہ ہے اور زرمبادلہ کے ذخائر 18.4 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ وفاقی بجٹ میں 50 کروڑ روپے سے کم مالیت کے کاروباروں پر سپر ٹیکس ختم کر دیا گیا ہے، کنسٹرکشن سیکٹر کو ریلیف دیا گیا ہے اور زرعی مشینری پر تمام ڈیوٹیز صفر کر دی گئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت ٹیکنالوجی کے ذریعے ٹیکس نظام کو مزید شفاف اور آسان بنانے پر کام کر رہی ہے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس میں ماہانہ سرمایہ کاری 18 کروڑ ڈالر سے بڑھ کر 30 کروڑ ڈالر ہو گئی ہے، جبکہ ایس ایم ایز، مالیاتی نظم و ضبط، سائبر سکیورٹی اور جدید مالیاتی ٹیکنالوجیز کے فروغ پر بھی خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ انہوں نے ایران کے ساتھ تجارت میں پیش رفت کی امید بھی ظاہر کی۔