اسلام آباد: وفاقی وزیر نجکاری، سرمایہ کاری بورڈ اور مواصلات عبدالعلیم خان نے کہا ہے کہ پی آئی اے کی نجکاری کو زیادہ آسان اور پرکشش بنا دیا گیا ہے، جبکہ ڈسکوز (بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں) کی نجکاری کے امور کو جلد از جلد حتمی شکل دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
وفاقی وزیر کی زیر صدارت پرائیویٹائزیشن کمیشن بورڈ کا 229واں اجلاس منعقد ہوا، جس میں مختلف اداروں کی نجکاری سے متعلق معاملات پر غور و خوض کیا گیا اور اہم سفارشات پیش کی گئیں۔ اجلاس میں گزشتہ اجلاس کی کارروائی کی منظوری بھی دی گئی، اور وزیر نجکاری نے ہدایت کی کہ تمام منصوبوں کو شفافیت کے ساتھ تیزی سے مکمل کیا جائے۔
اجلاس کے اہم نکات:
فنانشل ایڈوائزرز کی تقرری: نجکاری کے لیے تکنیکی امور پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور فنانشل ایڈوائزرز کی تقرری کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
شفافیت پر زور: عبدالعلیم خان نے اس بات کو یقینی بنانے کی ہدایت کی کہ نجکاری کے تمام مراحل قوانین و ضوابط کے مطابق ہوں اور کسی قسم کی خلاف ورزی نہ ہو۔
ملکی خزانے کا بوجھ کم کرنا: وفاقی وزیر نے کہا کہ اداروں کی نجکاری کا مقصد ملکی خزانے پر مستقل پڑنے والے بوجھ سے نجات حاصل کرنا ہے۔
پی آئی اے کی نجکاری:
عبدالعلیم خان نے کہا کہ پی آئی اے کی نجکاری کے لیے بہتر حکمت عملی تیار کی گئی ہے، جس میں گزشتہ تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے نئی سفارشات شامل کی گئی ہیں۔ اس کا مقصد نجکاری کو آسان اور سرمایہ کاروں کے لیے پرکشش بنانا ہے۔
ڈسکوز کی نجکاری:
وفاقی وزیر نے وزارت توانائی کو ہدایت کی کہ ڈسکوز کی نجکاری کے امور کو ایک ہفتے کے اندر حتمی شکل دی جائے تاکہ ان منصوبوں پر مزید کام کیا جا سکے۔وفاقی وزیر کی ہدایات کے مطابق، تمام نجکاری منصوبے جلد مکمل کرنے کے لیے اقدامات تیز کیے جا رہے ہیں، تاکہ قومی اداروں کو مؤثر انداز میں نجکاری کے عمل سے گزارا جا سکے۔