وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت بجلی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کی نجکاری کے حوالے سے ایک اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں ملک کے توانائی شعبے میں اصلاحات اور نجکاری کے جاری عمل پر تفصیلی غور کیا گیا۔
اجلاس میں وزیراعظم کو نجکاری کے مختلف مراحل پر پیش رفت سے آگاہ کیا گیا۔ اس موقع پر انہوں نے واضح ہدایت دی کہ خسارے کا شکار سرکاری اداروں کی نجکاری حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، اور اس عمل کو تیز رفتاری کے ساتھ مکمل کیا جائے، تاہم تمام مراحل کو مکمل طور پر شفاف رکھا جائے۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کے بعد ایک مضبوط اور مؤثر ریگولیٹری فریم ورک قائم کیا جائے گا تاکہ مستقبل میں نظام بہتر انداز میں چلایا جا سکے اور صارفین کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔اجلاس کو دی جانے والی بریفنگ میں بتایا گیا کہ نجکاری کے پہلے مرحلے میں اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی، گجرانوالہ الیکٹرک سپلائی کمپنی اور فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی شامل ہیں۔ ان اداروں کی نجکاری کے لیے ایکسپریشن آف انٹرسٹ ملکی اور بین الاقوامی اخبارات میں پہلے ہی جاری کیا جا چکا ہے۔مزید بتایا گیا کہ کابینہ کی نجکاری کمیٹی ان کمپنیوں کے ٹرانزیکشن اسٹرکچر کی منظوری بھی دے چکی ہے، جس کے بعد سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کے لیے عملی اقدامات شروع کیے جا رہے ہیں۔
اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے اسی ماہ روڈ شوز کا آغاز کیا جائے گا، جبکہ سعودی عرب، ترکیہ اور چین سمیت مختلف ممالک کے سرمایہ کاروں کے لیے بین الاقوامی سطح پر خصوصی روڈ شوز بھی منعقد کیے جائیں گے تاکہ غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دیا جا سکے۔اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر پاور اویس لغاری، وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔حکومتی حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد توانائی کے شعبے میں کارکردگی بہتر بنانا اور مسلسل مالی خسارے کا شکار اداروں کو نجی شعبے کے ذریعے مؤثر اور منافع بخش بنانا ہے۔