سمیع اللہ ملک(آخری قسط)
کارگل کامعرکہ اس تعلق کی تاریخ میں ایک اہم موڑثابت ہوا،اوراس تعلق کی بنیادوں کومضبوط کرنے میں اپناکرداراداکیا۔اس جنگ کے دوران اسرائیل کی جانب سے بھارت کو فراہم کی جانے والی مددنے اسے واضح طورپرپاکستان کی دشمنی میں صفِ اول میں کھڑاکردیا۔ یہ وہ لمحہ تھاجب دونوں ممالک کے درمیان اعتمادکاایک ایسارشتہ قائم ہواجوآنے والے برسوں میں مزیدمستحکم ہوتاگیا۔جب بھارت پر عالمی پابندیوں کے سایے گہرے تھے اوردنیابھرمیں کسی بھی ملک سے مددکی توقع نہیں تھی،اسرائیل نے خاموشی سے اس کی مددکی۔ یہ وہ لمحہ تھاجس نے دونوں ممالک کے درمیان اعتمادکی ایک ایسی بنیادرکھ دی جووقت کے ساتھ مضبوط ترہوتی گئی۔اسرائیل نے بھارت کواسلحہ فراہم کرکے ایک ایساقرض چڑھایاجس کی ادائیگی آج تک جاری ہے۔تاریخ کبھی خالی صفحہ نہیں ہوتی،اس کے حاشیوں میں لکھے گئے واقعات بھی بڑے فیصلوں کی بنیادبنتے ہیں۔
مودی کے اقتدار میں آنے کے بعدیہ تعلق کھل کرسامنے آیااوربعد میں یہ تعلق ایک نئی جہت اختیارکرگیا۔2017میں اسرائیل کے دورے اوراعلی سطحی ملاقاتوں نے اس شراکت داری کونہ صرف تقویت دی بلکہ اسے عوامی سطح پربھی اجاگرکیا۔یہ دورہ محض سفارت نہیں بلکہ ایک علامتی پیش قدمی تھی۔گویا دونوں رہنماایک دوسرے میں اپناعکس دیکھ رہے ہوں، ایک ایساعکس جس میں طاقت،قومیت اور مرکزیت کی جھلک نمایاں ہو۔اسرائیل کادورہ صرف ایک سفارتی سرگرمی نہیں بلکہ ایک علامتی اعلان تھاکہ بھارت اب اپنی خارجہ پالیسی کے نئے خطوط متعین کرچکاہے۔یہ ایک ایسامرحلہ تھاجہاں سفارت کاری نے علامتی حیثیت اختیارکرلی۔اس کے بعدہونے والے اعلیٰ سطحی تبادلوں نے اس تعلق کوعوامی سطح پربھی اجاگرکیا۔اوریوں آج مودی کے دورمیں یہ تعلق ایک نئے عروج کوپہنچ چکاہے۔
اس تعلق اورشراکت داری کادائرہ محض دفاع تک محدودنہیں رہابلکہ معیشت،زراعت،سائنس اورثقافت تک پھیل چکاہے۔اسرائیلی مہارت اوربھارتی وسائل کاامتزاج ایک ایسے اشتراک کوجنم دے رہاہے اوردونوں ممالک ایک دوسرے کی مہارتوں سے فائدہ اٹھارہے ہیں،جو دونوں ممالک کیلئے سودمندثابت ہورہاہے۔یہ تعاون ایک وسیع تراقتصادی شراکت داری میں تبدیل ہورہاہے مگراس کے ساتھ ساتھ یہ سوال بھی اٹھ رہاہے کہ کیایہ ترقی اخلاقی توازن کے بغیرممکن ہے اورکیایہ ترقی اصولوں کی قربانی کے بغیرممکن ہے؟
لیکن اس کہانی کاایک دوسرارخ بھی ہے بھارت کے اندراس پالیسی پرتنقید کا،تشویش کااورسوالات کاسلسلہ جاری ہے۔بھارت کے اندر اورباہریہ آوازیں اٹھ رہی ہیں اوراس تعلق پربحث جاری ہے۔دانشوروں اورسابق سفارت کاروں کاایک حلقہ اس بات پرتشویش کااظہارکر رہاہے کہ یہ قربت بھارت کی روایتی غیرجانبداری کومتاثرکررہی ہے۔کیایہ قربت فلسطینی مؤقف سے انحراف نہیں؟کیایہ دوستی اخلاقی اصولوں کی قیمت پرقائم نہیں؟ان کے نزدیک فلسطینی مؤقف سے دوری نہ صرف اخلاقی بلکہ سفارتی نقصان کاباعث بھی بن سکتی ہے اورایک ایسے خلاکو جنم دے رہی ہے جس سے مشرقِ وسطی میں بھارت بھی اسرائیل کی طرح نفرت کی نگاہوں کامرکزبن چکاہے اوراس کی ساکھ اب ایک ایسے منافق کے طورپرسامنے آرہی ہے جومنہ میں رام رام اوربغل میں چھری لئے ہوئے ہے۔
اپوزیشن کی آوازیں بھی اس معاملے پرخاموش نہیں رہیں۔انہوں نے حکومت کی پالیسی کوذاتی تعلقات کاشاخسانہ قراردیاہے،اوریہ سوال اٹھایاہے کہ کیاقومی مفادکوذاتی ہم آہنگی پرقربان کیاجارہاہے؟یہ سوالات ابھی فضامیں معلق اورجواب کے منتظرہیں اوروقت ہی ان کا فیصلہ کرے گا۔عالمی سطح پربھی اس تعلق کومختلف زاویوں سے دیکھاجارہاہے۔کچھ کے نزدیک یہ ایک نئی جیو پولیٹیکل صف بندی ہے،جبکہ دیگراسے ایک خطرناک رجحان قراردیتے ہیں جوعالمی توازن کوایسامتاثرکرسکتاہے جس کی بھاری قیمت بھارتی عوام کوادا کرنی پڑے گی۔اس وقت لاکھوں بھارتی مشرقِ وسطیٰ کے ممالک میں روزگارکے سلسلے میں موجودہیں اورخدشہ ہے کہ آئندہ مہینوں میں مودی کی ان منافقانہ پالیسیوں کاخمیازہ ان بھارتی شہریوں کوبھگتناپڑے گا۔
عالمی سطح پربھی اس تعلق کومختلف زاویوں سے دیکھاجارہاہے۔کچھ تجزیہ کاروں کے نزدیک یہ ایک خطرناک رجحان ہے جودنیاکو مزیدتقسیم کرسکتاہے۔اسرائیل کیلئے بھارت کی حمایت ایک ایسے وقت میں آئی ہے جب وہ عالمی تنہائی کاسامناکررہاہے،اس لیے یہ تعلق اس کیلئے ایک سہارا بن گیاہے۔ثقافتی میدان میں بھی اس ہم آہنگی کے آثارنمایاں ہیں ۔ فلموں اورڈراموں میں مشترکہ بیانیہ پیش کیاجارہا ہے،جس میں دہشتگردی کے خلاف مشترکہ جدوجہدکاتصورپیش کرکے ایک خاص زاویے سے دکھایاجاتاہے۔اس عوامی بیانیے میں ایک خاص نظریاتی رنگ جھلکتا ہے۔یہ بیانیہ عوامی ذہن سازی میں اہم کرداراداکررہاہے۔یہ بیانیہ عوامی رائے کوتشکیل دینے میں اہم کردار اداکررہاہے۔
اقتصادی تعاون نے بھی اس رشتے کومزید گہرااورنئی جہت دی ہے۔بندرگاہوں،توانائی کے منصوبوں اورتجارتی معاہدوں میں اشتراک نے دونوں ممالک کوایک دوسرے کے قریب ترکردیاہے۔یہ تعلق اب محض سیاسی نہیں بلکہ اقتصادی مجبوری بھی بنتاجارہاہے اوریہ تعلق اب صرف سیاسی نہیں بلکہ معاشی ضرورت بھی بن چکاہے۔تاہم،اس تمام ترقربت کے باوجود ایک اہم سوال باقی ہے اورایک شدید خلابھی محسوس ہوتاہیوہ ہے اخلاقی توازن اورذمہ داری کافقدان۔عالمی سطح پرانسانی حقوق کی پامالی پرخاموشی ایک ایساسوال ہے جوباربارسراٹھاتاہے جسے نظراندازنہیں کیاجاسکتا۔یہ خاموشی خودایک پیغام رکھتی ہے۔کیامفادات کی سیاست میں اصول ہمیشہ پسِ پشت چلے جاتے ہیں؟
ایران اورامریکاکے درمیان کشیدگی کے دوران بھارت کامحتاط رویہ بھی اسی تناظرمیں دیکھاجارہاہے۔ایک ایساملک جودونوں فریقین سے اچھے تعلقات رکھتاتھا،اس بحران میں فعال کرداراداکرنے سے گریزاں رہااورکوئی نمایاں کردارادانہ کرسکا۔یہ خاموشی خودایک بیان بن گئی۔یہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ عالمی سیاست اب محض اصولوں پر نہیں بلکہ مفادات کے پیچیدہ جال پر استوارہے۔اس تمام منظرنامے میں یہ حقیقت واضح ہوتی جارہی ہے کہ عالمی سیاست اب محض اتحادیوں اورمخالفین کی تقسیم نہیں رہی بلکہ نظریاتی ہم آہنگی اور مفادات کے امتزاج کاایک پیچیدہ جال بن چکی ہے۔بھارت اوراسرائیل کاتعلق اسی جال کی ایک نمایاں مثال ہے۔
مستقبل کے حوالے سے یہ سوال اہم ہے کہ کیایہ تعلق وقت کی آزمائش پرپورااترے گا؟یابدلتے حالات اسے ایک نئی سمت میں لے جائیں گے؟تاریخ ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ کوئی بھی اتحاددائمی نہیں ہوتا،بلکہ حالات کے ساتھ اس کی نوعیت بدلتی رہتی ہے۔عالمی سیاست کی بساط پریہ شطرنج ابھی جاری ہے۔مودی اورنیتن یاہوکی دوستی وقتی فائدوں کی ضمانت توبن سکتی ہے،مگرتاریخ کافیصلہ ہمیشہ دیر سے مگردوٹوک ہوتاہے۔وقت کی عدالت میں نہ صرف پالیسیوں بلکہ نیتوں کابھی محاسبہ ہوتاہے۔
آخرمیں یہ کہنابے جا نہ ہوگا کہ یہ تعلق محض دو ریاستوں کا نہیں بلکہ دونظریات کااتصال ہے،ایک ایسااتصال جودنیاکونہ صرف نئے سوالات اورنئے خدشات کی دہلیزپرلاکھڑاکرتا ہے بلکہ دنیاکی تباہی کی طرف بھی لیجا سکتاہے۔یہ کہنابجاہوگا کہ یہ داستان محض دو ممالک کی نہیں بلکہ ایک ایسے دورکی ہے جہاں اصول اورمفاد کے درمیان کشمکش جاری ہے۔یہی کشمکش آنے والے زمانوں کی سیاست کارخ متعین کرے گی،اورشاید یہی اس عہدکاسب سے بڑا سبق بھی ہے کہ پرامن دنیاکوبچانے کیلئے اس شیطانی الحاق کوجڑسے اکھاڑ پھینکنا ہوگا۔
یہ داستان ابھی مکمل نہیں، بلکہ تاریخ کے قلم کو ان دو سیاہ کرداروں کیلئے مزید سیاہی درکار ہے۔