امجد علی
دنیا ایک بار پھر اْس نازک موڑ پر آ کھڑی ہوئی ہے جہاں الفاظ کی جگہ بارود بولنے لگا ہے، اور سفارتی بیانیے میزائلوں کی گھن گرج میں دب چکے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ کی سلگتی زمین پر اسرائیل کا ایران پر براہِ راست حملہ محض دو ممالک کی کشیدگی نہیں، بلکہ ایک ایسا عمل ہے جو پوری دنیا کو ایک وسیع جنگ کی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔ یہ سوال اب باقی نہیں رہا کہ کیا جنگ ہو گی، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا اسے روکا جا سکتا ہے؟ اور کیا دنیا اس ممکنہ تباہی کے خلاف کوئی اجتماعی قدم اٹھائے گی؟ اسرائیل کا یہ حملہ ایک محدود فوجی کارروائی سے کہیں آگے ہے۔ ایران کی اعلیٰ عسکری اور نیوکلیئر قیادت کو ٹارگٹ کر کے اسرائیل نے ایک غیر معمولی پیغام دیا ہے، کہ وہ خطے میں کسی چیلنج کو باقی نہیں رہنے دے گا۔ دوسری جانب، ایران نے فوری عسکری ردعمل نہیں دیا، جس پر مختلف تجزیے سامنے آ رہے ہیں۔ بعض کے نزدیک یہ ایران کی حکمت عملی کا حصہ ہے کہ وہ سوچ سمجھ کر جوابی کارروائی کرے، جبکہ کچھ مبصرین کے مطابق اسرائیل مسلسل قیادت کو ختم کر کے ایران کی حربی صلاحیت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا چکا ہے۔
یہ تصادم محض عسکری یا نیوکلیئر اختلاف نہیں بلکہ ایک نظریاتی، تہذیبی اور جغرافیائی کشمکش بھی ہے۔ ایران خود کو مزاحمتی بلاک کا مرکز سمجھتا ہے، جو فلسطین، لبنان، شام اور یمن میں اپنے اتحادیوں کے ذریعے اسرائیل اور اس کے حامیوں کے خلاف برسرِ پیکار ہے۔ اسرائیل، جسے امریکہ اور مغربی طاقتوں کی بھرپور پشت پناہی حاصل ہے، اپنی برتری کو ہر حال میں برقرار رکھنا چاہتا ہے، اور ایران کی بڑھتی ہوئی نیوکلیئر طاقت کو اپنے وجود کے لیے خطرہ تصور کرتا ہے۔ یہی وہ بنیاد ہے جس پر اسرائیل نے preemptive aggression کی پالیسی کے تحت یہ حملہ کیا ہے۔
ایران اگر جواب دیتا ہے تو وہ مختلف راستے اختیار کر سکتا ہے، جن میں حزب اللہ، حماس، حوثی تحریک، اور شامی و عراقی ملیشیاؤں کے ذریعے اسرائیل پر دباؤ ڈالنا شامل ہو سکتا ہے۔ ان تنظیموں کی موجودگی اسرائیل کے لیے بیک وقت کئی محاذ کھولنے کے مترادف ہو گی۔ خلیج فارس اور بحر احمر میں تیل بردار جہازوں کی راہ داریوں کی بندش عالمی سطح پر منڈیوں کو لرزا سکتی ہے، جس سے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔
اگر امریکی مفادات یا فوجی اڈے اس تنازع میں براہِ راست متاثر ہوئے، تو امریکہ کی مداخلت ناگزیر ہو جائے گی۔ نیٹو کے رکن ممالک بھی حالات کے دباؤ میں آ کر اس جنگ میں شریک ہو سکتے ہیں۔ روس اور چین، جو ایران کے قریب سمجھے جاتے ہیں، اگر اس تنازع کو اپنے اسٹریٹجک مفادات سے جوڑ دیں، تو یوکرین، تائیوان اور مشرقِ وسطیٰ تین بڑے محاذ عالمی منظرنامے پر ایک ساتھ سرگرم ہو جائیں گے، جو تیسری عالمی جنگ کی ایک واضح پیش گوئی ہو سکتی ہے۔
یورپی یونین اس وقت خود داخلی تضادات کا شکار ہے۔ فرانس اور جرمنی نسبتاً سفارتی راہ کے حامی ہیں، جبکہ برطانیہ کھل کر امریکی پالیسی کے ساتھ کھڑا ہے۔ اگر حالات مزید بگڑتے ہیں تو یہ اختلافات بھی ختم ہو سکتے ہیں اور پورا یورپ کسی نہ کسی صورت اس جنگ کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔
تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ پہلی اور دوسری عالمی جنگیں بھی معمولی جھڑپوں سے شروع ہوئیں، اور دیکھتے ہی دیکھتے دنیا ایک خونی دائرے کی شکل اختیار کر گئیں۔ آج بھی ہم اسی موڑ پر کھڑے ہیں، جہاں کسی ایک ڈرون حملے، سائبر وار یا آئل بلاک کی وجہ سے پوری دنیا میں جنگ بھڑک سکتی ہے۔
اب وقت ہے کہ عالمی ادارے جیسے اقوامِ متحدہ، او آئی سی، یورپی یونین اور دیگر قوتیں محض "تشویش" تک محدود نہ رہیں بلکہ عملی اقدامات کریں۔ دنیا کو چاہیے کہ وہ اسرائیل کو جنگ بندی پر مجبور کرے، ایران کے ساتھ فوری ثالثی کا عمل شروع کرے اور امن کو ممکن بنانے کے لیے ایک متحدہ سفارتی محاذ قائم کرے۔ کیونکہ اگر آج خاموشی رہی تو کل تاریخ خاموش نہیں ہو گی۔ اور اگر انسانیت نے بروقت ہوش نہ لیا تو ایک بھیڑیا پوری بستی کو نگل سکتا ہے، جیسا کہ ہمیشہ سے ہوتا آیا ہے۔ آج فیصلہ تاریخ نے نہیں، انسان نے کرنا ہے کہ آیا ہم خود کو بچانا چاہتے ہیں یا پھر خود کو تاریخ کا محض ایک اور خونی باب بنانے پر آمادہ ہیں۔
دوسری جانب اگر یہ کشیدگی کھلی جنگ کی صورت اختیار کرتی ہے تو مسلم دنیا کو جذبات کی بجائے تدبر اور حکمتِ عملی سے کام لینا ہوگا۔ باہمی اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر متحد ہو کر ایران کی حمایت کرنا نہ صرف ایک نظریاتی تقاضا ہے بلکہ خطے کی اجتماعی سلامتی کا تقاضا بھی ہے۔ کم از کم اسے خطے کی دفاعی دیوار تصور کر کے اس کے دفاع کو اپنی مشترکہ ذمہ داری سمجھنا چاہیے۔ محض نعرہ بازی یا جذباتی یکجہتی کے بجائے، اسرائیل کے خلاف معلوماتی، سائبری اور ٹیکنالوجی پر مبنی جامع اور طویل المدتی حکمتِ عملی اپنانا ہوگی۔ آئی ٹی، مصنوعی ذہانت اور جدید حربی نظام کو بروئے کار لا کر ایسا مربوط جواب تیار کیا جانا چاہیے کہ جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جا سکے اور جارح قوتیں دوبارہ ایسی مہم جوئی سے باز رہیں۔ اسلام کا پیغام امن، تحفظ اور انسانیت کی فلاح ہے، اور مسلمان ہونے کے ناطے ہمارا فرض ہے کہ ہم نہ صرف اپنے عوام بلکہ دنیا کے تمام بیگناہ شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے کی جدوجہد میں اپنا کردار ادا کریں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے، آمین۔