رفیع صحرائی
کبھی بزرگ گھر کی رونق ہوا کرتے تھے۔ ان کے وجود کو باعثِ رحمت سمجھا جاتا تھا۔ گھر سے نکلتے وقت ان سے دعائیں لی جاتی تھیں اور اس یقین کے ساتھ گھر سے رخصت ہوا جاتا تھا کہ اب سارا دن ''ستّے ای خیراں'' ہوں گی۔ بزرگوں کی ڈانٹ کا برا منانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ ان کی ہر بات کو اہمیت دی جاتی تھی اور ہر نصیحت پر عمل کیا جاتا تھا۔ سال کے 365 دن ان کی دعاؤں کے سائے میں گزارے جاتے تھے۔ مگر اب وہ وقت جانے کہاں چلا گیا ہے۔ 365 دن سکڑ کر اب صرف ایک دن میں سما گئے ہیں اور وہ دن بھی عمل کے بجائے سوشل میڈیا پر نمائشی میسجز اور پیغامات شیئر کرنے کی نذر ہو جاتا ہے۔
یکم اکتوبر کو دنیا بھر میں عالمی یومِ معمر افراد منایا جاتا ہے۔ اس موقع پر بزرگوں کے حقوق، صحت، سماجی تحفظ اور ان کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا جاتا ہے۔ تقاریب ہوتی ہیں، تقاریر کی جاتی ہیں اور خوبصورت پیغامات سوشل میڈیا پر شیئر کیے جاتے ہیں۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ باقی 364 دن ہم اپنے بزرگوں کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں؟
ہمارے معاشرے میں کبھی بزرگ گھر کی رونق اور خاندان کی مرکزیت ہوا کرتے تھے۔ دادا دادی اور نانا نانی بچوں کی تربیت کا اہم حصہ ہوتے۔ ان کے پاس بیٹھنا، ان کی باتیں سننا اور ان کے تجربات سے سیکھنا معمول کی بات تھی۔ ایک ہی چھت کے نیچے کئی نسلیں رہتی تھیں اور بزرگوں کی موجودگی گھر کے لیے بوجھ نہیں بلکہ برکت سمجھی جاتی تھی۔
وقت بدلا، زندگی کی رفتار تیز ہوئی، مشترکہ خاندان کم ہوئے اور گھر بھی چھوٹے ہوتے گئے۔ مصروفیات اس قدر بڑھ گئیں کہ بعض اوقات ایک ہی گھر میں رہنے والے افراد ایک دوسرے کے لیے وقت نہیں نکال پاتے۔ سہولتیں بڑھتی گئیں مگر شاید ہمارے پاس سب سے قیمتی چیز، یعنی وقت، کم ہوتا گیا۔
بزرگوں کو سب سے زیادہ ضرورت اسی وقت کی ہوتی ہے۔ جو نئی نسل کے پاس نہیں ہے۔
مرحوم طارق کریم کھوکھر کا ایک شعر یاد آ گیا
ایسے رکھا ہے بزرگوں کو گھرانے سے الگ
جیسے صندوق میں کپڑے ہوں پرانے سے الگ
یہی کچھ تو آج ہم اپنے بزرگوں کے ساتھ کر رہے ہیں۔ بڑھاپا زندگی کا ایک فطری مرحلہ ہے۔ اس عمر میں جسمانی کمزوری اور صحت کے مسائل بڑھ سکتے ہیں، دوست احباب ایک ایک کرکے رخصت ہوتے جاتے ہیں اور انسان کی سماجی دنیا محدود ہونے لگتی ہے۔ ایسے میں گھر والوں کی توجہ اور رفاقت کی اہمیت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ ہمارا ان کے پاس بیٹھنا، ان کی باتیں توجہ سے سننا اور ان سے مشورہ لینا انہیں ان
کے اہم ہونے کا احساس دلاتا ہے۔ ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ بزرگوں کی خدمت کا مطلب ان کے لیے دوا خرید دینا یا ڈاکٹر کے پاس لے جانا ہے۔ یہ سب ضروری ہے، لیکن کافی نہیں۔ بزرگوں کو دوا کے ساتھ توجہ، گفتگو اور اپنائیت بھی چاہیے۔ کبھی غور کیجیے، بزرگ ایک ہی واقعہ بار بار کیوں سناتے ہیں؟ شاید اس لیے کہ سننے والا کوئی نہیں رہا۔ ان کے پاس زندگی بھر کی یادیں ہیں، تجربات ہیں، مشاہدات ہیں، مگر انہیں بانٹنے کے لیے فرصت رکھنے والے لوگ کم ہوتے جا رہے ہیں۔
ہم بچوں کو بزرگوں کا احترام کرنے کا درس دیتے ہیں، لیکن کیا ہم خود ان کے ساتھ وہ وقت گزارتے ہیں جس کے وہ مستحق ہیں؟ یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ کل کے بزرگ ہم خود ہیں۔ زندگی کا پہیہ خاموشی سے گھومتا ہے؛ انسان جس عمر کو دور سمجھتا ہے، وہ ایک دن خود اس کے سامنے آ کھڑی ہوتی ہے۔
بزرگوں کا مسئلہ صرف خاندان کی ذمہ داری بھی نہیں۔ ریاست اور معاشرے کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ عمر رسیدہ افراد کے لیے بہتر طبی سہولتیں، سماجی تحفظ، مناسب پنشن، محفوظ عوامی مقامات اور باعزت زندگی کے مواقع ضروری ہیں۔ انہیں معاشرے سے الگ تھلگ کرنے کے بجائے ان کے تجربے اور صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔
اس سلسلے میں سب سے بڑی تبدیلی ہمارے گھروں سے شروع ہو سکتی ہے۔ ہمیں اپنے موبائل فون ایک طرف رکھ کر روزانہ چند منٹ گھر کے بزرگ کے پاس بیٹھنا ہوگا۔ ان سے پوچھنا ہوگا: ''آپ کی طبیعت کیسی ہے؟'' ان کی بات سننا ہوگی، چاہے وہی قصہ ہمیں پہلے کئی بار سنایا جا چکا ہو۔ کیونکہ ممکن ہے اس قصے کے پیچھے ان کی وہ دنیا چھپی ہو جس میں ہم ان کے لیے سب سے اہم تھے۔
یاد رکھیے، بزرگوں کو ہمیشہ مہنگے تحفوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اکثر انہیں صرف یہ یقین چاہیے ہوتا ہے کہ وہ اب بھی اپنے گھر کے اہم فرد ہیں۔ ایک دن گھر کی وہ کرسی خالی ہو سکتی ہے۔ وہ آواز جو ہمیں بار بار بلاتی تھی، خاموش ہو سکتی ہے۔ پھر شاید ہمیں احساس ہو کہ کاش ہم نے اس وقت چند منٹ نکال لیے ہوتے، کاش ایک بار اور پاس بیٹھ لیتے، کاش ایک پرانی بات پھر سن لیتے۔
اس لیے موقع سے فائدہ اٹھائیے۔ آج اپنے گھر کے کسی بزرگ کے پاس جائیے۔ ان کا ہاتھ تھامیے اور چند منٹ روزانہ ان کے ساتھ گزاریے۔ شاید انہیں اور کسی چیز کی ضرورت نہ ہو۔ شاید انہیں صرف آپ کی ضرورت ہو۔