سمیع اللہ ملک(پہلی قسط)
بین الاقوامی سیاست کی بساط پراس وقت جونقشہ ابھررہاہے،وہ کسی خاموش طوفان کی مانندہے ،بظاہرسکون،مگرباطن میں ارتعاش۔ عالمی سیاست کی تاریخ میں بعض ادوارایسے آتے ہیں جب قوت کے توازن میں خاموش مگرفیصلہ کن تبدیلیاں رونماہوتی ہیں۔موجودہ زمانہ بھی انہی ادوارمیں سے ایک ہے،جہاں پرانے اتحادیوں کی بنیادیں ہلتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں اورنئی رفاقتیں غیرمتوقع زاویوں سے جنم لے رہی ہیں۔زمانہ اپنی کروٹیں بدل رہاہے اورعالمی سیاست کاافق ایک نئے اضطراب سے ہمکنارہے۔اسرائیل،جونصف صدی سے زائدعرصے تک مغربی حمایت کے مضبوط حصارمیں محفوظ رہا،اب اسی حصارمیں دراڑیں محسوس کررہاہے۔
وہ اسرائیل جوکبھی یورپ کی آغوشِ حمایت میں پروان چڑھتارہا،آج اپنے ہی مہربانوں کی نظروں میں اجنبی ہوتاجارہاہے۔اسرائیل،جو کبھی مغربی حمایت کامحورتھا،اب ایک ایسے موڑپرکھڑاہے جہاں اس کے دیرینہ حلیف بھی اس کی پالیسیوں سے بیزاردکھائی دیتے ہیں۔یورپ کے ایوانوں میں اب وہ گرمجوشی باقی نہیں رہی جوکبھی اس کیلئے مخصوص تھی،اور امریکاکے سیاسی حلقوں میں بھی ایک نئی احتیاط،بلکہ کہیں کہیں اجنبیت کی لہردکھائی دیتی ہے۔نیتن یاہوکی پالیسیوں نے ایسی تندآندھی کوجنم دیاہے کہ پرانے اتحادی بھی دامن جھٹکنے لگے ہیں۔حتی کہ امریکا،جوبرسوں سے اس کاسب سے بڑاپشت پناہ رہا،اب خودفاصلے کی دیواریں اٹھانے پرمجبور دکھائی دیتاہے۔
یہ بیزاری محض سفارتی سردمہری نہیں بلکہ ایک اخلاقی اضطراب کی بازگشت ہے۔یہ تغیرمحض سفارتی نزاکت کانتیجہ نہیں بلکہ ان پالیسیوں کاعکس ہے جنہوں نے انسانی ضمیرکوجھنجھوڑ کر رکھ دیاہے۔غزہ کی سرزمین پربہنے والاخون،مغربی کنارے میں بڑھتی ہوئی جارحیت،اب ایران کی سرزمین پرہونے والی تباہ کاریوں اورانسانی جانوں کے ضیاع نے جہاں عالمی ضمیرکوجھنجھوڑکررکھ دیاہے وہاں عالمی رائے عامہ کوبدلنے پرمجبورکردیاہے۔یورپ کے ایوانوں میں اب وہ یکجہتی باقی نہیں رہی،اورامریکامیں بھی پالیسی ساز حلقے ایک نئی سوچ کی طرف مائل نظرآتے ہیں۔
ایسے نازک لمحے میں جب پرانے رفیق کنارہ کش ہورہے ہیں،اورسفارتی تنہائی اسرائیل کامقدربنتی دکھائی دیتی ہے،ایک ایسی شیطانی آوازہے جو اس ویران بزم میں بھی ہم نوائی کاسازچھیڑرہی ہے۔یہ آوازبھارتی وزیراعظم نریندرمودی کی ہے،جونہ صرف اس تعلق کو سینچ رہاہے بلکہ اس کی آبیاری میں اپنے سفارتی سرمائے کوبھی داؤپرلگاچکاہے۔یہ وہ تعلق ہے جس میں اصول پسِ پشت اورمفاد پیشِ پیش دکھائی دیتاہے۔یہ تعلق وقتی مفادات کی بنیادپرنہیں بلکہ ایک گہری نظریاتی ہم آہنگی کا پرتومعلوم ہوتاہے۔مودی اورنیتن یاہو، دونوں اپنے اپنے ممالک میں طاقت کے ایسے مرکزبن چکے ہیں جہاں فیصلہ سازی کامحورشخصی ارادہ ہے،نہ کہ اجتماعی مشاورت۔مودی اورنیتن یاہودونام،مگر ایک سی فکری ساخت۔ دونوں جمہوریت کے علمبردارکہلاتے ہیں،مگران کی حکمرانی کے خدوخال میں سخت گیری اورمرکزیت کی جھلک نمایاں ہے۔گویاجمہوریت کے لبادے میں ایک مضبوط گرفت کی سیاست پروان چڑھ رہی ہو۔ان کے ہاں اختلاف کی گنجائش کم اور اطاعت کی طلب زیادہ محسوس ہوتی ہے۔
ان کی سیاست میں ایک ایسی مرکزیت ہے جوجمہوریت کی روح سے ہم آہنگ ہونے کی بجائے اس پرغالب آنے کی کوشش کرتی دکھائی دیتی ہے۔اسی پس منظرمیں ایک غیر معمولی منظربھارت کاکردارابھرتاہے جب دنیافاصلے بڑھارہی ہے،بھارت ایک ایساملک بن کر سامنے آیاہے جونہ صرف اسرائیل کے ساتھ کھڑاہے بلکہ اس کی حمایت میں پیش پیش دکھائی دیتاہے۔یہ رویہ محض سفارتی نہیں بلکہ ایک فکری جھکاؤکامظہرہے۔
دونوں رہنماں کے نظریاتی سانچے میں مذہب کومرکزیت حاصل ہے۔دونوں رہنماں کے بیانیے میںقومی شناخت کوایک مقدس مقام حاصل ہے۔اسرائیل میں یہ شناخت یہودی قومیت کے گردگھومتی ہے،جبکہ بھارت میں ہندوتواکاتصوراسی طرح کی مرکزیت اختیارکر چکاہے۔دونوں اپنے اپنے دائرے میں ایک ایسی وحدت کوجنم دیتے ہیں جس میں اقلیتیں اجنبی اورغیرمانوس بن کررہ جاتی ہیں۔مسلمانوں کے حوالے سے دونوں ریاستوں کابیانیہ ایک عجیب ہم آہنگی رکھتاہے،جیسے دوالگ سازایک ہی دھن بجارہے ہوں۔اس فکری ڈھانچے میں اقلیتیں محض حاشیے کی ایک تحریربن کررہ جاتی ہیںدیکھی ضرورجاتی ہیں مگرپڑھی نہیں جاتیں۔مودی اورنیتن یاہوکی قیادت میں دونوں ممالک کے تعلقات ایک نئی جہت اختیارکرچکے ہیں۔ان دونوں رہنماں کی سیاست میں ایک قدر مشترک نمایاں ہے ،قوت کاارتکازاور ریاستی بیانیے پرمکمل گرفت۔ان کی حکمرانی میں جمہوریت ایک رسمی ڈھانچہ محسوس ہوتی ہے،جبکہ اصل قوت محدوددائرے میں مرتکزدکھائی دیتی ہے۔
5اکتوبر2023کاوہ لمحہ تاریخ کے اوراق میں ایک علامت بن کرثبت ہوچکاہے جب حماس کے حملے کے بعدسب سے پہلی ہمدردی کی صداواشنگٹن یالندن سے نہیں بلکہ نئی دہلی سے بلندہوئی۔جس نے اس تعلق کی نوعیت کومزیدواضح کردیا۔جب خطہ ایک بارپھر آگ کی لپیٹ میں آیا،توعالمی ردعمل میں احتیاط اورتوقف نمایاں تھا،مگرنئی دہلی سے اٹھنے والی آوازفوری اوربے تامل تھی۔مودی کی جانب سے نیتن یاہوکوکی گئی فون کال محض ایک سفارتی اشارہ نہیں بلکہ ایک گہری نظریاتی وابستگی کامظہرتھی۔یہ ایک ایسا لمحہ تھاجس نے دونوں قیادتوں کے باہمی اعتمادکودنیاکے سامنے عیاں کردیا۔دونوں ریاستوں میں قومی شناخت کومذہبی بنیادوں پراستوارکیاگیاہے۔اسرائیل میں یہودی قومیت اوربھارت میں ہندوتوا کانظریہ،دونوں اپنے اپنے معاشروں میں ایک ایسی فضاپیدا کرتے ہیں جہاں اقلیتوں کیلئے گنجائش سکڑتی چلی جاتی ہے۔یہ رجحان نہ صرف داخلی سطح پراثراندازہوتاہے بلکہ خارجہ پالیسی کو بھی متاثرکرتاہے۔
اکتوبر2023کے واقعات نے اس تعلق کوایک نئی معنویت عطاکی۔جب خطہ ایک بارپھرجنگ کی لپیٹ میں آیا،توعالمی ردعمل میں احتیاط نمایاں تھی،مگربھارت کی جانب سے فوری حمایت نے اس بات کوواضح کردیاکہ یہ تعلق محض رسمی نہیں بلکہ گہرااوردیرپاہے۔اس تعلق کی بنیادیں صرف جذباتی یانظریاتی نہیں بلکہ عملی میدان میں بھی گہری پیوست ہیں ۔ یہ تعلق محض بیانات تک محدود نہیں بلکہ عملی میدان میں بھی اپنی جڑیں پھیلاچکاہے۔دفاعی تعاون،انٹیلی جنس شیئرنگ،خفیہ معلومات کاتبادلہ،جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی اوراربوں ڈالرز کی اسلحہ تجارت یہ سب اس رشتے کوایک مضبوط اقتصادی وعسکری شراکت داری میں تبدیل کرچکے ہیں اورایک مضبوط زنجیرمیں پرودیاہے۔گویایہ دو ریاستیں ایک دوسرے کے آئینے میں اپنی طاقت کاعکس دیکھ رہی ہوں۔دونوں ممالک ایک دوسرے کیلئے نہ صرف دوست بلکہ ایک دوسرے کی ضرورت بھی بن چکے ہیں۔دفاعی میدان میں یہ شراکت داری کاتعلق ایک ایسے بندھن میں ڈھل چکاہے جسے محض سفارتی بیان بازی سے الگ نہیں کیاجاسکتا۔
اگرتاریخ کے دریچوں سے جھانکاجائے تویہ تبدیلی اوربھی معنی خیزمحسوس ہوتی ہے۔تاریخ کامطالعہ اس تبدیلی کومزیدمعنی خیزبنادیتا ہے۔وہ بھارت جوکبھی فلسطین کاوکیل تھا،اس کے حق میں عالمی فورمزپرآوازبلندکرتاتھا،آج نہ صرف اسی مسئلے پرخاموشی اختیارکر چکاہے بلکہ آج اسی عدالت میں اسرائیل کاہم نوابن بیٹھاہے۔1947میں جس نے تقسیمِ فلسطین کی مخالفت کی تھی،وہی آج اسرائیل سے بغلگیرہوکرنہتے فلسطینیوں کے قتل عام میں شریک ہے۔یہ تبدیلی محض پالیسی نہیں بلکہ فکرکی تبدیلی کااعلان ہے گویایہ تبدیلی ایک تدریجی عمل کانتیجہ ہے جس نے وقت کے ساتھ ایک نئے شرمناک بیانیے کوجنم دیا۔یہ خاموشی محض سفارتی حکمت عملی نہیں بلکہ منافقت کاوہ مشترکہ رشتہ ہے،جس میں ترجیحات بدل چکی ہیں۔ (جاری ہے)