پاکستانی روپیہ، گرتی ھوئی قدر ، بڑھتے خدشات

پاکستانی روپیہ، گرتی ھوئی قدر ، بڑھتے خدشات

محمد ندیم بھٹی، 

پاکستانی روپیہ جو کبھی خطے کی مضبوط کرنسیوں میں شمار کیا جاتا تھا، آج بدقسمتی سے اپنی تاریخ کی کم ترین سطحوں پر پہنچ چکا ھے۔ معاشی ماہرین ھوں یا عام شہری،  مجھ سمیت سبھی اس بات پر متفق ہیں کہ روپے کی گرتی ہوئی قدر نہ صرف ایک مالیاتی مسئلہ ھے بلکہ یہ ایک گہرا قومی بحران بن چکی ھے، جو ہماری معیشت، سماج اور خود ہماری قومی خودداری کو متاثر کر رہا ھے۔جب کوئی غیر ملکی کرنسی کے مقابلے میں اپنی قومی کرنسی کی قدر کو روز بروز کم ہوتے دیکھتا ھے، تو اس کے اثرات محض کاروباری یا درآمد و برآمد کے حلقوں تک محدود نہیں رہتے، بلکہ یہ ہر عام پاکستانی کے دسترخوان تک جا پہنچتے ہیں۔ آٹے، چینی، گھی، پٹرول، بجلی، گیس، دوائیں، تعلیم، علاج، سفری اخراجات، سب کچھ مہنگا ھو جاتا ھے اور ایک تنخواہ دار شخص کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول ایک  نا ختم ھونے والا  ڈراونا خواب بن جاتا ھے۔
 میں نے بہت تحقیق کی ھے جس میں روپے کی قدر میں کمی کے کئی وجوہات سامنے آئے ہیں،  بنیادی طور پر یہ ایک معاشی بدانتظامی اور طویل المدتی پالیسیوں کے فقدان کا نتیجہ ھے۔ پاکستان گزشتہ کئی دہائیوں سے درآمدات پر انحصار کرتا آ رہا ھے، جبکہ برآمدات نہ صرف کم ہیں بلکہ محدود اشیاء￿  تک مقید ہیں۔ جب ایک ملک کی درآمدات زیادہ ھوں اور برآمدات کم، تو اس کا نتیجہ تجارتی خسارے کی صورت میں نکلتا ھے۔ اس خسارے کو پورا کرنے کے لیے حکومتیں یا تو قرضے لیتی ہیں یا پھر غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو استعمال کرتی ہیں۔ جب ذخائر ختم ہونے لگتے ہیں اور قرضوں کا بوجھ بڑھنے لگتا ھے، تو عالمی مالیاتی ادارے اور منڈیاں ملک کی کرنسی پر اعتماد کھو دیتی ہیں، اور یوں اس کی قدر کم ہونے لگتی ھے۔پاکستان میں کئی مرتبہ روپے کی قدر کو مصنوعی طور پر مستحکم رکھنے کی کوشش کی گئی، جس کے لیے اسٹیٹ بینک غیر ملکی زرمبادلہ مارکیٹ میں مداخلت کرتا رہا، مگر یہ اقدامات عارضی ثابت ھوئے۔ جیسے ہی حکومت کا دباؤ کم ھوا یا آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت مارکیٹ کو آزاد چھوڑا گیا، روپے کی قیمت دھڑام سے نیچے آ گئی۔ روپے کی قدر میں کمی کا ایک اور پہلو سیاسی عدم استحکام ھے۔ جب ملک میں مسلسل سیاسی کشمکش، اداروں کی چپقلش، یا غیر یقینی صورتحال ھو، تو سرمایہ کار اعتماد کھو بیٹھتے ہیں۔ بیرونی سرمایہ کاری رک جاتی ھے، کاروباری سرگرمیاں سست ھو جاتی ہیں اور زرمبادلہ کی آمد میں کمی آتی ھے۔
 مجھے یہ بات کرتے ھوئے  شرم آتی ھے لیکن یہ ایک افسوسناک حقیقت ھے کہ ہم بحیثیت قوم اپنی معیشت کو پائیدار بنیادوں پر کھڑا کرنے میں ناکام رھے ہیں۔ جس کا سلسلہ اب تک جاری ھے۔ہماری حکومتیں قلیل مدتی منصوبوں اور سبسڈی کی سیاست کرتی رہیں، جب کہ بنیادی اصلاحات پر توجہ نہیں دی گئی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ نا تو زراعت کو جدید خطوط پر استوار کیا جا سکا، نہ صنعت کو عالمی معیار پر لایا جا سکا، اور نہ ہی خدمات کے شعبے کو برآمدات کے قابل بنایا جا سکا۔ ہم نے آئی ٹی، ٹورازم، مینوفیکچرنگ اور دیگر شعبوں میں مواقع گنوا دئیے، جن سے ہم زرمبادلہ کما سکتے تھے۔
پاکستانی روپیہ ایک آزاد منڈی میں اپنی حقیقی قیمت کے مطابق طے ہوتا ھے، مگر یہ "حقیقی قیمت" کیا ھے؟ اگر افراط زر مسلسل بڑھ رہا ھو، کرپشن، بدانتظامی، سیاسی افراتفری اور معاشی پالیسیاں غیر واضح ھوں، تو منڈی خودبخود کرنسی کی قدر کم کرنا شروع کر دیتی ھے۔ جب ایک دکاندار یہ سمجھتا ھے کہ ڈالر کی قیمت آج سے زیادہ کل ھو جائے گی، تو وہ اپنی اشیاء￿  مہنگی کر دیتا ھے۔ جب ایک درآمد کنندہ ڈالر کی قلت کی وجہ سے کھیپ وقت پر نہیں منگوا پاتا، تو وہ بھی قیمتیں بڑھا دیتا ھے۔ یوں مہنگائی کا ایک نہ رکنے والا طوفان برپا ھو جاتا ھے۔
روپے کی گرتی ہوئی قدر کا سب سے زیادہ نقصان درمیانے اور نچلے طبقے کو ہوتا ھے۔ ایک جانب تنخواہیں جوں کی توں رہتی ہیں، اور دوسری جانب روزمرہ اشیاء￿  کی قیمتیں ہفتہ وار بنیادوں پر بڑھتی چلی جاتی ہیں۔ گھر کا کرایہ، بچوں کی فیس، اسپتال کا بل، دوائی، سب کچھ مہنگا ہوتا جا رہا ھے۔ عام آدمی کی زندگی مشکل سے مشکل تر ہو گئی ھے۔ مزدور طبقہ جو روز کما کر روز کھاتا ھے، اب دو وقت کی روٹی کا بندوبست کرنے کے لیے دن رات مزدوری کرنے پر مجبور ھے، پھر بھی گھر کا خرچ پورا نہیں ہوتا۔
بیرون ملک مقیم پاکستانی جب زرمبادلہ بھیجتے ہیں، تو عارضی طور پر کچھ بہتری آتی ھے، مگر یہ حل نہیں بلکہ محض ایک سہارا ھے۔ ترسیلات زر کو بھی ہم نے ایک پالیسی کی شکل نہیں دی، بلکہ مجبوریاں بنا لیا۔ لاکھوں نوجوان صرف اس لیے ملک چھوڑنے پر مجبور ہیں کہ یہاں انہیں روزگار، انصاف اور تحفظ نہیں ملتا۔ ملک کا ٹیلنٹ بیرون ملک جا رہا ھے، اور اس کے بدلے میں ہم زرمبادلہ وصول کر کے بچوں  اور بوڑھے  افراد کو  پال  کرخوش ھو رہے ہیں، حالانکہ یہی دماغ اگر ملک میں استعمال ہوتے، تو معیشت سنبھل سکتی تھی۔
روپے کی قدر میں کمی کا ایک بڑا نقصان قومی قرضوں پر بھی ہوتا ھے۔ جب ہم ڈالر میں قرض لیتے ہیں اور پھر روپے میں واپس کرتے ہیں، تو جیسے ہی روپے کی قیمت گرتی ھے، ہمارے قرضے خودبخود بڑھ جاتے ہیں۔ مثلاً اگر کسی وقت ایک ارب ڈالر کا قرض 150 ارب روپے تھا، تو آج وھی قرض 280 ارب روپے بن چکا ھے۔ اس سے حکومت کا مالیاتی بوجھ بڑھتا ھے، سود کی ادائیگیوں میں اضافہ ہوتا ھے، اور ترقیاتی اخراجات کم ہو جاتے ہیں۔ یوں تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر جیسے شعبے متاثر ہوتے ہیں، اور عام آدمی مزید پیچھے چلا جاتا ھے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ھے کہ  آخر اس صورتحال کا حل کیا ھے؟ کیا ہم ہمیشہ اسی طرح روپے کی گرتی ہوئی قدر کو قسمت کا لکھا سمجھ کر قبول کرتے رہیں گے؟ یا ہم کوئی سنجیدہ اصلاحات کر کے اس سلسلے کو روکتے ہیں؟  اس کے بر عکس  ھمسایہ ملک بہت بڑی آبادی  اور تقریبآ  4000 شہر ھونے کے باوجود   اپنی کرنسی  کو مضبوط  رکھنے  میں کامیاب  ھے اس کی باوجود  ھمارے  ملک میں 119 شہر ھونے اور آبادی  اس سے کہیں  کم ھونے کے باوجود کرنسی  کی گرتی  ھوئی حقیقت  سے  جہنم نما زندگی  گزارتے  پر  مجبور  ہیں۔ اس کے ساتھ  اس کی بہتری  کے  لئے  بات کریں تو پہلا اور بنیادی حل یہ ھے کہ ملک میں سیاسی استحکام لایا جائے۔ جب تک ملک میں سیاسی عدم یقینی ھو گی، کوئی بھی سرمایہ کار اعتماد کے ساتھ پیسہ نہیں لگائے گا اور ٹیکس  چوری  جیسی حرکات  کرے گا، دوسرا یہ کہ ہمیں اپنی معیشت کو درآمدات پر انحصار کرنے کے بجائے مقامی پیداوار کی طرف لے جانا ہو گا۔ ہمیں اپنی صنعتوں کو فروغ دینا ھو گا، برآمدات کو بڑھانا ھو گا، اور ان شعبوں میں سرمایہ کاری کرنی ھو گی جو زرمبادلہ کما سکتے ہیں۔
ٹیکس نظام کو بہتر بنانا، کرپشن کا خاتمہ، حکومتی اخراجات میں کمی، غیر ضروری درآمدات پر پابندی، اور توانائی کے شعبے میں اصلاحات ایسے اقدامات ہیں جو نہ صرف معیشت کو مضبوط کریں گے بلکہ روپے کی قدر کو بھی سہارا دیں گے۔ ہمیں یہ بھی سمجھنے کی ضرورت ھے کہ معیشت صرف اعداد و شمار کا کھیل نہیں، بلکہ اس کا براہ راست تعلق انسانی زندگی سے ھے۔ جب روپے کی قدر کم ہوتی ھے، تو صرف کرنسی نوٹ نہیں گرتے، بلکہ انسان کی عزت نفس، امید اور اعتماد بھی مجروح ہوتا ھے۔
ملک کو اس وقت ایک ایسی قیادت کی ضرورت ھے جو فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتی ھو، جو ذاتی مفاد سے بالاتر ھو کر قومی مفاد میں سوچے، جو وقتی سیاسی فائدے کے بجائے طویل المدتی اصلاحات کا راستہ اپنائے۔ ہمیں مصنوعی سہارا دینے والے اقدامات کے بجائے، حقیقی معیشتی استحکام کی جانب بڑھنا ہو گا۔ ہمیں اپنے وسائل پر انحصار بڑھانا ھو گا، نوجوانوں کو ملک میں مواقع فراہم کرنا ھوں گے، اور ایک واضح، مربوط اور پائیدار معاشی پالیسی اپنانی ہو گی۔
روپے کی گرتی ہوئی قدر کا سفر کوئی اچانک واقعہ نہیں بلکہ کئی دہائیوں کی معاشی بدانتظامی، بدعنوانی، اور قومی بے حسی کا نتیجہ ھے۔ اگر ہم نے اب بھی آنکھیں نہ کھولیں، تو وہ دن دور نہیں جب نہ صرف روپیہ، بلکہ ہماری خودمختاری، عزت اور بقا بھی خطرے میں پڑ جائے گی۔ اب بھی وقت ھے کہ ہم بحیثیت قوم سنجیدہ ھو جائیں، اپنی ترجیحات درست کریں، اور ایک ایسی معاشی سمت کا تعین کریں جو ہمیں صرف مالیاتی خودمختاری ھی نہیں بلکہ قومی وقار بھی واپس دلا سکے۔