سید منیر حسین گیلانی
ارض مقدس مکہ مکرمہ میں 7 اگست کو دنیا کی تاریخ کے صفحات پر © ©’’مکہ دفاعی معاہدہ ‘‘نامی اتحاد معرض وجود میں آیا ہے، جس میں پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب ممبر ہیں۔حوثی تنظیم انصاراللہ سے ایران کے تعلقات اور سعودی عرب سے اس کی کشیدگی کے تناظر میں ہمارے برادرہمسایہ اسلامی کے خدشات فطری ہیں۔ اگرچہ پاکستان اور ترکی نے وضاحت کردی ہے کہ سہہ ملکی اتحاد کا ہدف کوئی ملک نہیں۔ ایرانی ترجمان نے بھی اس موقف کو قبول کرلیا ہے۔ لیکن میرا نہیں خیال کہ’’ سب اچھا ہے‘‘۔میں نے روس یوکرائن جنگ کے آغاز سے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں ایک تباہ کن جنگ کا آغاز ہوگا۔پھر اسرائیل نے غزہ پر بمباری کر کے تقریباً 80 ہزار افراد کو شہید کردیا ، آبادی کو کھنڈرات میں تبدیل کر دیا مگر امت مسلمہ میں سے کسی اسلامی قوت نے کوئی اتحاد بنایا اور نہ ہی فلسطینیوں کو بچانے میں کوئی عملی کردار ادا کیا،سوائے چندغیر موثر قراردادوں کے۔ اسرائیل کی بڑھتی ہوئی توسیع پسندانہ سوچ عالمی امن کے لئے خطرہ بن چکی ہے اور افسوسناک پہلو یہ ہے کہ کوئی اس کی مخالفت کو تیار نہیں۔ اسرائیل نے حملہ کرکے لبنان کے کچھ حصوں پر قبضہ کرلیا۔اس وقت بھی اور آج بھی ان تین بڑی قوتوں نے اسرائیل کو روکنے کے لیے کوئی عملی اقدام نہ کیا تھا۔ اس حوالے سے ان واقعات پرمیرا اپنا نقطہ نظر ہے ،جس کا اظہار میں انہیں صفحات میں کرتا رہا ہوں۔لیکن اب میں یہ سوچنے پر مجبور ہوں کہ اس وقت حکومت اورا فواج پاکستان کو اس دفاعی معاہدے میں شامل ہونے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی جبکہ گذشتہ سال ہندوستان اور پاکستان کے درمیان معرکہ حق بنیامن مرصوص کے نام سے جنگ میں افواج پاکستان نے دشمن کو منہ توڑ جواب دیتے ہوئے اپنی طاقت اور صلاحیتوں کو آزمایا اور الحمد للہ دنیا کو حیران کر دیا۔ ترکیہ نیٹو کا ممبر اور امریکہ کا قریبی دوست ملک بھی ہے۔بڑی مضبوط فوج رکھتا ہے،اسے دفاع کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی ؟لیکن مجبوراًیہ کہنا پڑتا ہے کہ اس اتحاد کی اصل وجہ حوثیوں کی تنظیم انصار اللہ کے سعودی عرب پر حملے اورسلطنت سعودیہ کے تیل کی فروخت میں رکاوٹ ہے جیسا کہ پوری دنیا جانتی ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز اور انصاراللہ نے باب المندب کو بند کر دیا ہے۔ واضح نظرآرہا ہے کہ دونوں اطراف سے امریکہ کا مقابلہ کرنے کے لیے ایران نے یہ طرز عمل اختیار کیا ہے۔ جس کے رد عمل میں سعودی عرب نے شہید رہبر معظم آیت اللہ سید علی خامنہ ای رحمتہ اللہ علیہ کی نماز جنازہ میں شریک حوثی وفد کی وطن واپس آنے والی پرواز پر حملہ کیا ،جسے متبادل ائرپورٹ پر اتار کر سعودی عرب کو شدید رد عمل دیا گیا۔ حوثیوں نے یمنی بارڈر کے قریب سعودی علاقے پر حملے کیے ،اس کے رد عمل میں سعودیہ نے بھی حوثیوں پر فضائی حملے کی۔اب کئی دنوں سے یہ علاقہ غیر محفوظ نظر آ رہا ہے ، جس سے ایک بڑی جنگ کے آثار نمایاں ہوتے جا رہے ہیں۔ میرے نقطہ نظر سے حوثیوں اور سعودی عرب کی اس لڑائی میں ایران کے شریک ہونے کے امکانات واضح تھے ،لہٰذا سعودی عرب کی ضرورت تھی کہ حوثیوں کو روکنے کے لیے اپنے پرانے ساتھی عالم اسلام کی واحد ایٹمی قوت پاکستان کومعاہدے کی شکل میں شامل کرے، حالانکہ ستمبر 2025ء میں سعودی عرب کے ساتھ اسی طرح کا معاہدہ پاکستان کرچکا تھا۔ اب سعودی حمایت کو مزید مضبوط بنانے کے لئے ترکیہ کو بھی شامل کیا گیا ہے۔حالانکہ ترکیہ پر کسی حملے کا خدشہ پہلے تھا اور نہ ہی اب ہے۔ جیسا کہ میں پہلے بھی اشارہ کر چکا ہوں کہ یہ تینوں ممالک پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ امریکہ کے قریب تر ہیں۔میرا اندازہ ہے کہ امریکہ کے کہنے پر ہی آبنائے ہرمز خالی کرانے کے لیے کوئی بہانہ تلاش کر کے ایران پر ایک بڑے حملے کی تیاری کی جا رہی ہے جبکہ ایران آبنائے ہرمز کے حوالے سے عمان کی قیادت کو اپنے فارمولے پر قائل کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے۔البتہ امریکہ کی ناجائز اولاد اسرائیل خطے میں امن نہیں ہونے دینا چاہتا ، اس کی خواہش ہے کہ امریکہ ایران جنگ کو جاری رہے ،کیونکہ اس میں اسرائیل اور نیتن یاہو کی سیاسی بقا کا راز مضمر ہے۔ لہٰذا میری تحریر کا نچوڑ یہ ہے کہ اسرائیل کی خواہش پر امریکہ ہر وہ قدم اٹھانے کو تیار ہے جس سے ایران کی اقتصادی صورتحال اور سماجی ماحول کوخر اب تر کیا جائے۔ میں سلام پیش کرتا ہوں بہادرایرانی قوم کو جو ولی امر مسلمین آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑی ہے۔چونکہ انہوں نے انتشار پھیلانے کی ہر ساز ش کو ناکام بنا دیا ہے، یہ بات قابل فخرہے کہ ایرانی قوم نے کربلا سے درس لیتے ہوئے قربانیاں دیں مگر امریکہ کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا ہے۔قومی یکجہتی کے حوالے سے اس جنگ میں آیت اللہ سید علی خامنہ ای رحمتہ اللہ علیہ کی شہادت نے ایران کو نہ صرف اندرونی طور پر متحد اور مضبوط کیا ہے بلکہ اسرائیل اور امریکہ کے خلاف تہران کے بازاروں اور گلیوں میں نفرت انگیز سماں بھی نظر آتا ہے۔اب نئے حالات میں اسرائیل جنگ سے باہر ہو گیا ہے جبکہ امریکہ کی خواہش کے عین مطابق تینوں اسلامی ممالک کے اب ایران کے خلاف استعمال ہونے کا خدشہ ہے حوثیوں کا تجربہ اور جذبہ ان کے مخالفین کے لیے تشویش ناک ہے۔قارئین کو یاد ہوگا کہ پاکستان کے سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی قیادت میں دسمبر 2015 ء میں 39 اسلامی ممالک کا دہشت گردی کے خلاف اتحادتشکیل پایا تھا۔ اس اتحاد کا بھی ہدف اسرائیل یا امریکہ نہیں تھا بلکہ حوثی تنظیم انصاراللہ ہی تھی۔اب مشکل یہ ہے کہ ایران پاکستان کے ساتھ سفارتی دفاعی تعلقات کو بڑی اہمیت دیتا ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ رکوانے اور مذاکرات کروانے میں بھی ثالثی کا کردار پاکستان ہی نے ادا کیا۔ جس پر ایرانی قوم نے تشکر پاکستان کے نعرے بھی تہران کی سڑکوں پر لگائے اور حالیہ دنوں میں ایرانی وزیر داخلہ کی وزیراعظم شہباز شریف سے اسلام آباد میں ملاقات ہوئی تو انہوں نے نئے اتحاد کے حوالے سے اپنی حکومت کے خدشات کا اظہار کیا۔ دوسری طرف خلیج تعاون کونسل بھی آبنائے ہرمز کو کھولنے کا مطالبہ کر چکی ہے۔ یہ صورت حال یقینا ایران کے لئے اچھے اشارے نہیں دے رہی۔ ہم ایرانی حکومت کو مشورہ دیتے ہیں کہ عرب ممالک سے سیاسی ،دفاعی اور سیاستی روابط مضبوط کرے اور ان میں اپنے ہم فکر لوگ تیار کرے، چومکھی لڑائی ایران کے حق میں نہیں ہوگی لیکن حالیہ صورت حال بتارہی ہے کہ وہ جنگ جو امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر مسلط کی تھی،وہ اسے مسلم ممالک کی جنگ بنانے میں کامیاب ہوگیا ہے،چاہے اس کے محرکات کچھ بھی ہوں۔۔۔END۔۔۔