پشاور سمیت خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں مون سون بارشوں نے تباہی مچادی، ندی نالوں میں طغیانی، نشیبی علاقے زیرِ آب اور کئی مقامات پر مکانات گرنے کے واقعات سامنے آئے ہیں۔
پشاور
شہر اور نواحی علاقوں میں موسلادھار بارش کے باعث گلیاں اور سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگیں، نشیبی علاقے ڈوب گئے اور ٹریفک کی روانی بری طرح متاثر ہوئی۔ ریسکیو 1122 نے 70 سے زائد اہلکار، 8 ایمبولینسز، 2 ڈیزاسٹر گاڑیاں اور 6 ڈی واٹرنگ پمپس مختلف مقامات پر تعینات کر دیے ہیں تاکہ پانی کی نکاسی اور شہریوں کو ریسکیو کیا جا سکے۔
نوشہرہ
تحصیل پبی میں طوفانی بارش سے کمرے کی چھت گرنے سے میاں بیوی جاں بحق ہوگئے۔
مردان
تخت بھائی میں بارش کا پانی سڑکوں اور گلیوں میں بہنے لگا، ندی نالیوں میں طغیانی سے خوف و ہراس پھیل گیا۔
صوابی
گدون امازئی میں مکانات گرنے سے متعدد افراد زخمی ہوگئے جبکہ لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات بھی پیش آئے۔ کرنل شیر خوڑ میں ڈوبنے کی اطلاع پر غوطہ خوروں کی ٹیم روانہ کی گئی۔ سیلابی ریلہ موضع گندف میں داخل ہوگیا جہاں بچے چھتوں پر پناہ لیے ہوئے ہیں۔ مختلف حادثات میں 10 خواتین زخمی ہوئیں۔
دیر
بارش اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بالائی علاقوں کی رابطہ سڑکیں بہہ گئیں جبکہ بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی۔ دریائے پنجکوڑہ میں پانی کی سطح بلند ہوگئی ہے۔
سوات
مینگورہ شہر ایک بار پھر سیلابی ریلے کی زد میں آگیا، گھروں میں پانی داخل ہوگیا اور سڑکیں ڈوب گئیں۔ ضلعی انتظامیہ نے عوام کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت دی ہے، تاہم تیز بہاؤ کے باعث مشکلات کا سامنا ہے۔
طبی امداد
وزارت صحت نے این ڈی ایم اے کی درخواست پر گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا کے سیلاب متاثرین کے لیے سی ون 30 طیارے کے ذریعے طبی سامان روانہ کیا ہے۔
پاک فوج کا ریسکیو آپریشن
پاک فوج کا بونیر، سوات، شانگلہ اور باجوڑ میں فلڈ ریلیف آپریشن چوتھے روز بھی جاری ہے۔ ہیلی کاپٹرز کے ذریعے متاثرین کو راشن اور امدادی سامان فراہم کیا جا رہا ہے۔ کور آف انجینئرز راستے کھولنے اور ملبہ ہٹانے میں مصروف ہے جبکہ آرمی ڈاکٹرز فری میڈیکل کیمپس میں متاثرین کا علاج کر رہے ہیں۔