مقبوضہ مغربی کنارے: اسرائیلی فائرنگ سے پانچ فلسطینی طلبہ زخمی

مقبوضہ مغربی کنارے: اسرائیلی فائرنگ سے پانچ فلسطینی طلبہ زخمی

رام اللہ: مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے کم از کم پانچ فلسطینی طلبہ زخمی ہو گئے ہیں۔

واقعہ بیرزیت یونیورسٹی کے کیمپس میں پیش آیا، جو رام اللہ کے قریب واقع ہے۔فلسطینی ہلالِ احمر کے مطابق، مجموعی طور پر 11 طلبہ متاثر ہوئے، جن میں سے پانچ براہِ راست فائرنگ سے زخمی ہوئے، جبکہ دو طلبہ آنکھوں میں آنسو گیس کے اثر سے بے ہوش ہو کر گرنے سے زخمی ہوئے۔ زخمیوں کو فوری طور پر ایمبولینس کے ذریعے اسپتال منتقل کیا گیا۔عینی شاہدین کے مطابق، اسرائیلی فوجی گاڑیاں صبح کے وقت کیمپس میں داخل ہوئیں، جس کے بعد فائرنگ کی گئی۔ یونیورسٹی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ طلبہ نے فوجیوں کی آمد پر احتجاج کیا اور پتھراؤ بھی ہوا، تاہم کسی اسرائیلی فوجی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔اسرائیلی فوج نے واقعے کی تصدیق کی ہے لیکن کیمپس میں داخل ہونے اور فائرنگ کی واضح وجہ نہیں بتائی، اور کہا کہ واقعے کی جانچ جاری ہے۔

بیرزیت یونیورسٹی کے صدر طلال شاہوان نے کہا کہ یونیورسٹی اور اس کے طلبہ اکثر اسرائیلی کارروائیوں کا نشانہ بنتے رہے ہیں، مگر اس بار کیمپس کے اندر داخل ہو کر فائرنگ کرنا تمام حدود عبور کرنے کے مترادف ہے۔واضح رہے کہ اکتوبر 2023 میں غزہ میں جنگ کے آغاز کے بعد سے مغربی کنارے بھی مسلسل اسرائیلی فوجی کارروائیوں کی زد میں ہے، جہاں فلسطینیوں کی ہلاکتوں، گرفتاریوں اور املاک کی تباہی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔