مقبوضہ مغربی کنارے کے فلسطینی گاؤں جلود میں 100 سے زائد اسرائیلی آبادکاروں نے حملہ کردیا، جس کے دوران فلسطینیوں کے گھروں اور گاڑیوں کو آگ لگا دی گئی جبکہ سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں 3 اہلکار معمولی زخمی ہوگئے۔
اسرائیلی فوج کے مطابق آبادکاروں نے سڑکیں بند کیں، ٹائر جلائے اور سکیورٹی اہلکاروں پر پتھراؤ کیا۔ حملے کے دوران ایک فلسطینی خاندان کے گھروں اور گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچایا گیا اور انہیں آگ لگائی گئی۔یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب اسرائیلی فوج ایک فلسطینی خاندان کو تقریباً دو ماہ بعد ان کے گھر واپس پہنچانے کی کوشش کررہی تھی۔ خاندان نے آبادکاروں کے حملوں کے بعد اپنا گھر چھوڑ دیا تھا۔ فوج کی نگرانی میں واپسی کے کچھ دیر بعد 100 سے زائد آبادکار وہاں جمع ہوگئے، جس کے بعد صورتحال کشیدہ ہوگئی۔اسرائیلی فوج کے مطابق جھڑپوں کے دوران 3 بارڈر پولیس اہلکار معمولی زخمی ہوئے جبکہ سکیورٹی فورسز کی ایک گاڑی کو بھی نقصان پہنچا۔ پولیس نے ایک شخص کو گرفتار جبکہ دو کم عمر افراد کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا۔ واقعے کی تحقیقات بھی شروع کردی گئی ہیں۔اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے واقعات سکیورٹی فورسز کے کام میں رکاوٹ بنتے ہیں اور آبادکار برادری کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔
اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ نے بھی واقعے کو قانون کی حکمرانی اور اسرائیلی معاشرے کی بنیادی اقدار کے خلاف قرار دیا۔جلود کے علاوہ مغربی کنارے کے فلسطینی گاؤں المغیر میں بھی آبادکاروں کے حملے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جہاں گاڑیوں کو آگ لگانے اور املاک کو نقصان پہنچانے کی رپورٹس ہیں۔اقوام متحدہ کے مطابق رواں سال کے پہلے نصف میں مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف آبادکاروں کے حملوں میں مارپیٹ، توڑ پھوڑ اور آتش زنی سمیت مختلف واقعات شامل رہے، جبکہ اوسطاً روزانہ تقریباً 6 حملے رپورٹ ہوئے۔ دوسری جانب مغربی کنارے میں فلسطینی حملوں میں اسرائیلی شہریوں کے متاثر ہونے کے واقعات بھی رپورٹ ہوتے رہے ہیں۔