مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فورسز نے نابلس کے مغرب میں واقع گاؤں دِیر شرف میں چھاپہ مار کر دو فلسطینی بچوں کو گرفتار کرلیا۔
فلسطینی خبر رساں ادارے وفا کے مطابق اسرائیلی فورسز پیر کی صبح گاؤں میں داخل ہوئیں اور متعدد گھروں کی تلاشی لینے کے بعد دو کمسن بچوں کو حراست میں لے لیا۔وفا کے مطابق گرفتار کیے جانے والے بچوں کی شناخت کریم مرعیٰ موسیٰ اور فاروق انمار نوفل کے نام سے ہوئی ہے۔ مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ فورسز نے کارروائی کے دوران کئی گھروں کی تلاشی لی، تاہم بچوں کی گرفتاری کی فوری طور پر کوئی اسرائیلی وضاحت سامنے نہیں آئی۔یہ کارروائی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کی چھاپہ مار کارروائیوں اور گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے۔ حالیہ ہفتوں کے دوران نابلس اور دیگر علاقوں میں بھی گھروں کی تلاشی اور فلسطینیوں کی گرفتاریوں کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔فلسطینی قیدیوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کے مطابق اکتوبر 2023 میں غزہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے مغربی کنارے میں تقریباً 2 ہزار فلسطینی بچوں کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔ تاہم مختلف اداروں کے ریکارڈ اور اعداد و شمار کے ادوار میں فرق کے باعث مجموعی تعداد مختلف ہوسکتی ہے۔
فلسطینی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی حراست میں بچوں کے ساتھ مبینہ بدسلوکی، جسمانی تشدد، خوراک اور طبی سہولیات کی محدود دستیابی، تنہائی میں رکھنے اور دیگر سخت حالات سے متعلق شکایات کرتی رہی ہیں۔فلسطینی حکام اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے بچوں سمیت فلسطینیوں کی گرفتاریوں کو طویل عرصے سے تشویش کا معاملہ قرار دیا ہے اور حراست کے دوران شہریوں، خصوصاً بچوں کے حقوق اور تحفظ کو یقینی بنانے پر زور دیا ہے۔مغربی کنارے میں جاری گرفتاریوں اور فوجی کارروائیوں کے باعث علاقے میں کشیدگی برقرار ہے۔