بھارت، پانچ سال سے بغیر کسی مقدمے کے قید دو مسلمان طلبہ کی درخواست ضمانت مسترد

نئی دہلی (آئی این پی ) بھارت کی سپریم کورٹ نے ان دو مسلمان طلبہ کو ضمانت دینے سے انکار کر دیا  جن پر مذہبی تشدد پھیلانے کی سازش کا الزام ہے اور وہ بغیر کسی مقدمے کے برسوں سے قید ہیں۔امریکی خبر رساں ادارے   کے مطابق عمر خالد اور شرجیل امام کو پانچ سال قبل سخت سکیورٹی قانون کے تحت گرفتار کیا گیا تھا اور ان پر فروری 2020 میں دہلی کے کچھ حصوں میں فرقہ وارانہ تشدد کو ہوا دینے کی سازش کا الزام لگایا گیا تھا۔ اس وقت ہنگاموں میں 53 افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں سے زیادہ تر مسلمان تھے اور ایسا 2019 میں بننے والے ایک قانون کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہروں میں ہوا تھا، جس کے بارے میں ناقدین کا کہنا ہے کہ اس میں مسلمانوں کو امتیاز کا نشانہ بنایا گیا ہے۔اسی کیس میں حراست میں لیے گئے دیگر پانچ افراد کی ضمانت منظور کر لی گئی تاہم عدالت کا کہنا ہے کہ عمر خالد اور شرجیل امام نے سازش میں مرکزی کردار ادا کیا۔اس کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ مقدمے میں ہونے والی تاخیر ضمانت دینے کے لیے کافی بنیاد فراہم نہیں کرتی۔قوانین سے متعلق معلومات دینے والی ویب سائٹ بار اینڈ بینچ کے مطابق سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ عمر خالد اور شرجیل امام کا معاملہ مقدمے کے دیگر ملزمان سے مختلف ہے