عمر قید کو سزائے موت میں تبدیل کرنے کی اپیل مسترد 14 سال قید کاٹ کر رہا ہونے والا دوبارہ سزا کا مستحق نہیں سپریم کورٹ

صدر مملکت کو سزا میں کمی کا آئینی اختیار حاصل ہے، سزا بڑھانی ہے تو ترمیم کریں،ویسے بھی آج کل آئینی ترامیم کرنا کون سا مشکل ہے
اسلام آباد( آن لائن ) سپریم کورٹ نے عمر قید کی سزا کو سزائے موت میں تبدیل کرنے سے متعلق اپیل مسترد کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ 14 سال قید کاٹ کر صدر مملکت کی عام معافی کے تحت رہا ہونے والے ملزم کو دوبارہ سزا نہیں دی جا سکتی۔سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت کے دوران جیل سپرنٹنڈنٹ ڑوب ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش ہوئے۔ عدالت نے رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے استفسار کیا کہ اس میں درج ہے کہ ملزم نے 14 سال سزا مکمل کرنے کے بعد صدر مملکت کی عام معافی سے بقیہ سزا میں رعایت حاصل کی، تاہم یہ واضح کیا جائے کہ عمر قید کی سزا کو 14 سال کیسے تصور کیا گیا۔عدالت نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق عمر قید کے قیدی کے لیے کم از کم 17 سال قید کاٹنا ضروری ہے، تاہم اس مقدمے میں ملزم پہلے ہی رہا ہو چکا ہے، اس لیے اس قانونی نکتے کا جائزہ کسی مناسب مقدمے میں لیا جائے گا۔سپریم کورٹ نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ صدر مملکت کو آئین کے تحت سزا میں کمی یا معافی دینے کا اختیار حاصل ہے، جو اس کیس میں استعمال کیا گیا۔ عدالت نے کہا کہ اگر سزا میں اضافہ ممکن بنانا مقصود ہے تو اس کے لیے آئینی ترمیم کی ضرورت ہوگی، اور طنزیہ انداز میں ریمارکس دیے  "ویسے بھی آج کل آئینی ترامیم کرنا کون سا مشکل ہے۔"عدالت نے اپیل کو ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے خارج کر دیا۔