کسانوں کو عالمی سطح پر رائج جدید طریقہ کار سے متعارف کرانا ‘معیاری بیج، کھاد اور زرعی ادویات کی بروقت فراہمی یقینی بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے
زرعی شعبے میں ترقی کی بھرپور استعداد ہے‘وسائل میں رہتے ہوئے تحقیق پر سرمایہ کاری کررہے ہیں:اجلاس میں گفتگو‘5برس میں زرعی برآمدات بڑھانے کیلئے جامع لائحہ عمل تشکیل دینے کی ہدایت
اسلام آباد(آئی این پی ) وزیراعظم شہباز شریف نے آئندہ 5 برس میں زرعی برآمدات بڑھانے کیلئے جامع لائحہ عمل تشکیل دینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ زرعی شعبے میں اصلاحات کے ساتھ ساتھ زراعت کی ترقی کیلئے اقدامات کر رہے ہیں۔وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت زرعی برآمدات میں اضافے اور زرعی شعبے کو عالمی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے سے متعلق ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں ملکی زرعی شعبے پر جامع رپورٹ پیش کی گئی جس میں شعبے کو درپیش مسائل، موجودہ صورتحال اور آئندہ کے لائحہ عمل پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ زرعی شعبے کی اصلاحات اور کسانوں کو عالمی سطح پر رائج جدید طریقہ کار سے متعارف کروانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت زرعی شعبے میں اصلاحات کے ساتھ ساتھ زراعت کی مجموعی ترقی کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ زرعی پیداوار میں اضافے کے لیے کسانوں کو معیاری بیج، کھاد اور زرعی ادویات کی بروقت فراہمی یقینی بنانے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ زرعی اجناس کی پراسیسنگ کے ذریعے برآمدات کے قابل اشیا کی تیاری کے لیے بھی اقدامات جاری ہیں تاکہ ویلیو ایڈیشن کو فروغ دیا جا سکے۔حکومتی خرچ پر ایک ہزار پاکستانی طلبہ کو جدید زرعی تربیت کے لیے چین بھجوایا گیا ہے، وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں زرعی شعبے کی ترقی کی بھرپور استعداد موجود ہے اور زراعت کی ترقی کے لیے تحقیق پر سرمایہ کاری کی جا رہی ہے تاکہ فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ ہو۔انہوں نے مزید کہا کہ ماہی گیری اور پھلوں سمیت ان سے تیار کردہ مصنوعات کی برآمدات میں اضافے کے لیے بھی اقدامات جاری ہیں۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ساحلی پٹی پر پام آئل کی پیداوار کے لیے پالیسی اقدامات تشکیل دے کر پیش کیے جائیں، جبکہ آئندہ پانچ برسوں میں زرعی برآمدات بڑھانے کے حوالے سے جامع لائحہ عمل تیار کیا جائے