38.3 ارب ڈالر کی ریکارڈ ترسیلات زر پاکستانیوں کا حکومتی پالیسیوں پر اعتماد معاشی ترقی کیلئے پرعزم ہیں:شہبازشریف
زرعی اصلاحات پر عمل در آمد کا آغاز کسانوں کو آسان قرضوں کی سہولت سے کیا جائے گا ‘ زرعی فنانسنگ کیلئے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کا طریقہ کار اختیار کیا جائے گا‘ زرعی ترقیاتی بینک میں بھی ہنگامی بنیادوں پر اصلاحات کی جائیں
آئندہ پی ایس ڈی پی میں زرعی پراجیکٹس کو مرکزیت حاصل ہوگی ‘ ترقیاتی منصوبے میکینائزیشن، ڈیجیٹائزیشن، کسانوں کی قرضوں تک آسان رسائی اور کاروبار دوست ماحول کے قیام پر مرکوز ہوں گے :وزیراعظم کی اجلاس میں گفتگو
اسلام آباد(آئی این پی ) وزیراعظم شہباز شریف نے گزشتہ مالی سال تاریخ کی بلند ترین ترسیلات زر پر اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ترسیلات زر میں چھبیس اعشاریہ چھ فیصد کا اضافہ انتہائی خوش آئند ہے۔سٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق مالی سال2024-25 میں ترسیلات زر کی مد میں 38.3 ارب ڈالر بھیجے گئے۔ جاری بیان کے مطابق وزیراعظم نے کہاکہ ترسیلات زر میں ریکارڈ اضافہ بیرون ملک پاکستانیوں کی قابل قدر خدمات اور ان کے پاکستانی معیشت میں اعتماد کا مظہر ہے، حالیہ مثبت معاشی اعشاریے حکومتی پالیسیوں کی سمت درست ہونے کی عکاسی ہیں۔وزیراعظم شہباز شریف نے واضح کیا کہ حکومت ملک میں معاشی استحکام کے بعد معاشی ترقی کے لیے پر عزم ہے۔دریں اثناء وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے زرعی شعبے میں پائیدار اصلاحات سے ملکی معیشت کو مزید فروغ ملے گا، زرعی فنانسنگ کے لئے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کا طریقہ کار اختیار کیا جائے گا ۔وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت زرعی شعبے کی ترقی کے حوالے سے اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں وزیراعظم کو زرعی شعبے میں اصلاحات بالخصوص زرعی پیداوار میں اضافے، زرعی انفرا اسٹرکچر، کاروبار دوست ماحول کے لیے آسان اور پائیدار قوائد و ضوابط کے قیام اور کسانوں کی آسان زرعی قرضوں تک رسائی کے حوالے سے تجاویز پیش کی گئیں۔اس موقع پر وزیراعظم نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ زرعی اصلاحات پر عمل در آمد کا آغاز کسانوں کو آسان قرضوں کی سہولت سے کیا جائے گا اور زرعی فنانسنگ کے لئے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کا طریقہ کار اختیار کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ زرعی ترقیاتی بینک میں بھی ہنگامی بنیادوں پر اصلاحات کی جائیں تاکہ کسانوں کو آسان قرضے کی فراہمی شفاف انداز میں یقینی بنائی جا سکے، آئندہ پی ایس ڈی پی میں زرعی پراجیکٹس کو مرکزیت حاصل ہوگی اور ترقیاتی منصوبے میکینائزیشن، ڈیجیٹائزیشن، کسانوں کی قرضوں تک آسان رسائی اور کاروبار دوست ماحول کے قیام پر مرکوز ہوں۔شہباز شریف نے کہا کہ زرعی شعبے میں پائیدار اصلاحات سے ملکی معیشت کو مزید فروغ ملے گا، زرعی اصلاحات کے شعبے میں زرعی اجناس کے علاوہ لائیو اسٹاک سیکٹر کی اصلاحات پر بھی بھرپور توجہ دی جائیانکا کہنا تھا کہ زرعی شعبے کی اصلاحات کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتیں مل کر بھرپور تعاون سے کام کریں گی، اصلاحات سے پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ اور پیداواری لاگت میں کمی آئے گی، زرعی اجناس کی سٹوریج گنجائش بڑھانے کے حوالے طویل مدتی اور قلیل مدتی حکمت عملی کے لئے نئی تجاویز لائی جائیں۔وزیراعظم نے کہا کہ زرعی شعبے میں پائیدار اصلاحات کے لیے صوبوں کے ساتھ تعاون سے ایک جامع حکمت عملی تشکیل دی جائے، زراعت کے شعبے میں ترقی سے سب سے زیادہ فائدہ کسانوں اور دیہی علاقوں کو ہو گا، شعبہ زراعت صرف تب عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق ترقی کر سکتا ہے جب اس شعبے کے ماہرین زرعی پالیسیوں کی سمت کا تعین کرنے میں ہمارے ساتھ تعاون کریں