حکومت سے جاری مذاکرات کے حوالے سے فیصلہ عمران خان نے کرنا ہے، علیمہ خان

حکومت سے جاری مذاکرات کے حوالے سے فیصلہ عمران خان نے کرنا ہے، علیمہ خان

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں اپنے بھائی سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حکومت کے ساتھ جاری مذاکرات اور پی ٹی آئی کے مطالبات کے بارے میں تفصیلات شیئر کیں۔

 علیمہ خان نے کہا کہ فیصلہ عمران خان کو ہی کرنا ہے اور جب مذاکراتی کمیٹی ملاقات کرے گی تب کوئی بات چیت ہو سکے گی۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے ہمیشہ ہی رول آف لا کی بات کی ہے اور ان کے مطالبات جمہوری اصولوں کے تحت ہیں۔علیمہ خان نے مزید کہا کہ عمران خان نے مذاکرات کے دوران دو اہم مطالبات کیے ہیں، جن میں ایک جوڈیشل کمیشن کے قیام کا مطالبہ شامل ہے تاکہ 9 مئی کے واقعات کی تحقیقات کی جا سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کے مطالبات کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جانا ضروری ہے، کیونکہ پی ٹی آئی کا موقف یہ ہے کہ حکومت نے جوڈیشل کمیشن کے قیام کے حوالے سے سنجیدہ رویہ اختیار نہیں کیا ہے۔علیمہ خان نے انکشاف کیا کہ حکومتی مذاکراتی کمیٹی نے بنی گالہ میں نظر بندی کی پیشکش کی تھی، جس کا ان کے خیال میں کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا۔ انہوں نے بتایا کہ علی امین گنڈا پور نے اس پیشکش کو لے کر انہیں آگاہ کیا تھا، لیکن ان کا ماننا تھا کہ مذاکرات کرنے والے سنجیدہ نہیں ہیں۔ علیمہ خان نے یہ بھی کہا کہ اگر بیک ڈور ڈیل کی پیشکش ہوتی تو یہ معاملہ پہلے ہی طے ہو چکا ہوتا، کیونکہ پی ٹی آئی نے ہمیشہ کھل کر مذاکرات کی پیشکش کی ہے، مگر حکومت کی جانب سے کبھی بھی کوئی براہ راست رابطہ نہیں کیا گیا۔

علیمہ خان نے عدلیہ پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ سمجھتی ہیں کہ جوڈیشل کمیشن سینئر جج کی سربراہی میں تشکیل دینا چاہیے تاکہ اس کی تحقیقات سب کے لیے قابل قبول ہوں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت کو قانون کی حکمرانی کا احترام کرنا چاہیے اور تمام فریقین کو ان کے حقوق دیے جائیں۔ملاقات کے دوران عمران خان نے اپنے دوست ایئر کموڈور سجاد حیدر کو یاد کیا، جو جنگی ہیرو تھے اور انہوں نے اپنے ووٹ کا حق استعمال کیا تھا۔ علیمہ خان کا کہنا تھا کہ ان کی ملاقات میں صرف فیملی معاملات پر بات ہوئی، اور حکومت سے ہونے والے مذاکرات کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ مذاکراتی کمیٹی نے ابھی تک سنجیدگی دکھانے کا وعدہ نہیں کیا، اور انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے دیگر مطالبات پر بات اس وقت ہو گی جب حکومت اپنی نیت کو ثابت کرے گی۔

آخر میں علیمہ خان نے کہا کہ عمران خان نے یہ بھی کہا تھا کہ جیل میں ان سے ملاقات کے لیے کوئی رکاوٹ نہیں ہے، اور اس کے باوجود انہیں کیوں کمیٹی سے ملاقات کرنے نہیں دیا جا رہا ہے۔