ویب ڈیسک:سابق وزیراعظم عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے کہا ہے کہ عمران خان نے 24 نومبر کو نہ صرف پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے کارکنوں بلکہ پورے پاکستان کے عوام کو باہر نکلنے کی دعوت دی ہے۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان نے یہ پیغام دیا ہے کہ 8 فروری کو عوام نے ووٹ ڈالا، لیکن پھر انہیں باہر نکال کر چوروں کو پارلیمنٹ میں بٹھا دیا گیا۔ علیمہ خان کے مطابق عمران خان نے عوام سے کہا کہ "اب آپ غلام بن چکے ہیں، اپنے اور اپنے بچوں کے لیے باہر نکلیں"۔علیمہ خان نے مزید کہا کہ جمہوریت کے تین ستون ہیں: میڈیا، جوڈیشری اور عوام، لیکن ان تینوں کو تباہ کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے میڈیا کی آزادی پر پابندی اور وی پی این پر لگائی گئی پابندیوں کا ذکر کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ قاضی فائز عیسیٰ نے کیا کارنامے انجام دیے ہیں۔علیمہ خان نے اوورسیز پاکستانیوں کے لیے بھی ایک پیغام دیا، جس میں عمران خان نے کہا کہ اوورسیز پاکستانیوں کو سب سے زیادہ احساس ہونا چاہیے اور انہیں پاکستان کے لیے نکلنا چاہیے تاکہ وہ اس ظلم کے خلاف آواز بلند کریں اور بتائیں کہ یہ موجودہ نظام قابل قبول نہیں ہے۔
اس موقع پر پی ٹی آئی کے رہنما علی محمد خان نے بھی میڈیا سے گفتگو کی اور کہا کہ 24 نومبر کی تاریخ عمران خان کے لیے انتہائی اہم ہے، کیونکہ یہ وہ دن ہے جب انہوں نے 2011 میں پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کی تھی۔ علی محمد خان نے دعویٰ کیا کہ اس بار خیبر پختونخوا اور پنجاب کے عوام ایک ساتھ عمران خان کی کال پر نکلنے کے لیے پرعزم ہیں۔ انہوں نے اوورسیز پاکستانیوں سے بھی درخواست کی کہ وہ آزادی کے لیے باہر نکلیں۔علی محمد خان نے مزید کہا کہ موجودہ حکومت ایک سیاسی لاش ہے، جسے شہباز شریف لے کر چل رہے ہیں، اور کہا کہ 17 سیٹیں ن لیگ کی ہیں، جبکہ 117 سیٹیں پی ٹی آئی کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کو ساڑھے چار سو دنوں سے جیل میں رکھا گیا ہے، اور ان کا کوئی قصور نہیں ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ہوش کے ناخن لیں، عمران خان کو جیل سے نکال کر بنی گالا جانے دیں، کیونکہ ان کے مطابق، عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک کا نظام تباہ ہوگیا ہے اور اب قانون کا دائرہ تھانوں تک محدود ہوچکا ہے۔علی محمد خان نے کہا کہ عمران خان کا یہ پیغام ہے کہ وہ باہر آکر سیاسی انتقام نہیں لیں گے بلکہ پاکستان کی بہتری کے لیے کام کریں گے۔