راولپنڈی: سابق وزیراعظم اور بانی پاکستان تحریکِ انصاف عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر ان کی بہنیں علیمہ خان، ڈاکٹر عظمیٰ اور نورین خان نے اڈیالہ جیل کے قریب دھرنا دے دیا۔ دھرنے میں کارکن بھی شریک ہوئے۔
آج عمران خان سے ملاقات کا دن تھا، تاہم ملاقات کی اجازت نہ دی گئی۔راولپنڈی کے مختلف مقامات، بشمول داہگل، گورکھپور اور فیکٹری کے قریب ناکے لگائے گئے، جہاں پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی۔عمران خان کی بہنیں پیدل جیل کی جانب روانہ ہوئیں، تاہم ان کی گاڑی ناکے سے آگے نہیں جا سکی۔علیمہ خان کی قیادت میں کارکن پیدل فیکٹری ناکے پہنچے، جہاں پابندیاں اور رکاوٹیں کھڑی کی گئی تھیں۔
علیمہ خان کا میڈیا ٹاک:
علیمہ خان نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے ساتھ غیر آئینی سلوک اور مینٹل ٹارچر کیا جا رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ جب عمران خان نے پیغام دے دیا ہے، اب کوئی مذاکرات کی بات کرے تو وہ بانی کی پارٹی کا نہیں ہوگا۔علیمہ خان نے حکومت پر الزام لگایا کہ وہ بانی سے ملاقات نہ کرنے کی وجہ بتانے میں ناکام رہی اور قانون و آئین کی خلاف ورزی کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ احتجاج کے دوران کوئی غیر آئینی کام نہیں کیا جا رہا، صرف آئینی حق کے تحفظ اور ملاقات کی اجازت مانگی جا رہی ہے۔علیمہ خان نے کارکنوں کے ساتھ مل کر دھرنا جاری رکھنے کا اعلان کیا اور کہا کہ بانی کو اکیلا نہیں چھوڑیں گے۔
مزید معلومات:
دھرنے میں پی ٹی آئی کے دیگر رہنما، بشمول سلمان اکرم راجہ اور شفیع اللہ جان بھی شریک ہوئے۔دھرنے کی وجہ سے اطراف کی سڑکیں سیل کر دی گئی تھیں۔یہ احتجاج عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہ ملنے اور ان کے ساتھ غیر آئینی سلوک کے خلاف کیا گیا، جس میں پارٹی کے کارکنان اور بہنیں عمران خان کے حقوق کے تحفظ کے لیے موجود ہیں۔