وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایت پر ستھرا پنجاب کے تحت صفائی کے نظام کو مزید مؤثر بنانے اور ورکرز کی بروقت تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے صفائی کے معیار کو بلند رکھنے اور عوامی شکایات کو فوری حل کرنے کے لیے متعدد اہم احکامات جاری کیے ہیں۔انہوں نے ہدایت کی کہ ستھرا پنجاب ورکرز کو ہر ماہ کی 5 تاریخ سے قبل تنخواہ کی ادائیگی یقینی بنائی جائے، اور اگر کسی کمپنی نے تاخیر کی، تو اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ اس سلسلے میں، وزیراعظم کی ہدایت پر، اب تک 149 میں سے 151 کمپنیوں کے ورکرز کو تنخواہوں کی ادائیگی مکمل کی جا چکی ہے۔ مریم نواز نے واضح کیا کہ جو کمپنی ورکرز کو بروقت تنخواہ نہیں دیتی، اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی، اور صفائی کے معیار یا مالی بے ضابطگیوں کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔شہریوں کی حوصلہ افزائی کے لیے، انہوں نے فیصلہ کیا ہے کہ کمرشل اور رہائشی علاقوں میں صفائی برقرار رکھنے والے شہریوں کو ’’انوائرمنٹ فرینڈلی سٹیزن‘‘ کا سرکاری اسٹیکر دیا جائے گا، اور انہیں سرٹیفکیٹ یا تحائف بھی دیے جائیں گے۔مزید برآں، وزیراعلیٰ نے ایم ڈی واسا کو ہدایت کی ہے کہ وہ روزانہ کم از کم دو گھنٹے فیلڈ میں گزاریں، اور ٹی ایم اوز اور ایف ایم اوز کو ہر روز پانچ یونین کونسلز کا دورہ کرکے صفائی کے معیار کا جائزہ لینا ہوگا۔ ہر ڈویژنل ہیڈ کوارٹر میں ستھرا پنجاب کا اینٹی لٹرنگ سکواڈ بھی متحرک کیا جائے گا، جو ای بائیکس کے ذریعے گلی محلوں اور بازاروں کی نگرانی کرے گا۔
مریم نواز نے ورکرز کے لیے گاربیج بیگ کا استعمال بھی لازمی قرار دیا ہے، جیسا کہ مری کی طرز پر۔ انہوں نے افسران اور عملے کی غیر حاضری کے خلاف سخت نوٹس لیا ہے اور متعلقہ حکام کو کارروائی کا حکم دیا ہے۔صفائی کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے، انہوں نے گلی محلوں، خالی پلاٹس، ویسٹ انکلیوژرز کی صفائی، ٹوٹی ہوئی دیواروں اور دروازوں کی مرمت، اور مکینیکل سویپرز کی کارکردگی کو یقینی بنانے کی ہدایت دی ہے۔ نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنانے اور عوامی شکایات کے فوری حل پر بھی زور دیا گیا ہے۔مزید برآں، انہوں نے ایم ڈی، ایف ایم اوز اور ٹی ایم اوز کے لیے کے پی آئیز مقرر کرنے کا حکم دیا ہے تاکہ کارکردگی کو مانیٹر کیا جا سکے، اور بری کارکردگی والے حکام کو آئندہ تین سال کے لیے پوسٹنگ نہ کرنے کی ہدایت بھی دی ہے۔مریم نواز نے واضح کیا ہے کہ مرکزی سڑکوں پر گندگی اور ویسٹ انکلیوژرز کی حالت تشویشناک ہے، اور صفائی کے نظام میں ہر روز بہتری لانی ہوگی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ دفتری عملہ اور افسران، جو صرف دفتر میں بیٹھے تنخواہ لیتے ہیں، قابل قبول نہیں، بلکہ انہیں فیلڈ میں جا کر کام کرنا ہوگا۔