اسلام آباد کی ترلائی امام بارگاہ میں نماز جمعہ کے دوران ہونے والے خودکش دھماکے کے حملہ آور کی شناخت کر لی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق حملہ آور کا نام یاسر ہے اور وہ پشاور کا رہائشی تھا۔حملے کے ساتھ تعاون کرنے والے چار سہولت کاروں کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے، جن میں سے کچھ راولپنڈی کے علاقے میں سہولت کاری کر رہے تھے۔ ابتدائی تفتیش کے مطابق خودکش بمبار نے دھماکے سے قبل مسجد کی ریکی کی تھی اور ایک ہفتہ قبل بھی مسجد کے ارد گرد دیکھا گیا تھا۔ حملہ آور چار ماہ تک افغانستان میں رہا۔ذرائع نے بتایا کہ حملہ آور نے داخل ہونے سے پہلے فائرنگ کی، جس کے بعد مسجد کے ہال میں جا کر خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ دھماکے میں 4 سے 6 کلو بارودی مواد استعمال کیا گیا جبکہ بال بیئرنگ کی بڑی تعداد شامل تھی۔ حملہ آور نے راستے میں دو اور اندر داخل ہو کر چھ گولیاں چلائیں، تمام خول جائے وقوعہ سے برآمد کیے گئے۔نیشنل فرانزک ایجنسی اور نادرا کی مدد سے شواہد جمع کیے گئے، اور ابتدائی تحقیقات جاری ہیں۔