پنجاب حکومت نے سائنس ٹیچنگ الاؤنس کے حوالے سے ایک اہم فیصلہ کیا ہے جس کے تحت 1 لاکھ سے زائد اساتذہ سے کروڑوں روپے کا الاؤنس واپس لینے کا حکم دیا گیا ہے۔
یہ فیصلہ 2014 میں بھرتی ہونے والے 14 ہزار ایجوکیٹرز سمیت 2015 اور 2018 میں بھرتی ہونے والے اساتذہ پر بھی لاگو ہوگا۔ ان اساتذہ کو سائنس ٹیچنگ الاؤنس کے طور پر ماہانہ 600 روپے کی ادائیگیاں کی جا رہی تھیں، جو کئی سالوں سے جاری تھیں۔صوبائی حکومت نے سکول سربراہان کو ہدایت کی ہے کہ وہ کنٹریکٹ کے دوران سائنس ٹیچنگ الاؤنس کی ریکوری کریں۔ پنجاب ٹیچرز یونین کے صدر کاشف شہزاد نے اس فیصلے کی بھرپور مذمت کی ہے اور کہا کہ سائنس ٹیچنگ الاؤنس اساتذہ کا بنیادی حق ہے، اس لئے اس فیصلے کو فوراً واپس لیا جائے۔یہ فیصلہ اس بات کا غماز ہے کہ حکومتی ادارے تعلیمی مراکز میں اساتذہ کی پوزیشنوں اور مالی فوائد کے حوالے سے سخت پالیسی اختیار کر رہے ہیں، جو ممکنہ طور پر اساتذہ کے احتجاج اور ناراضگی کا سبب بن سکتا ہے۔