پانچ اکتوبر کو لاہور میں پی ٹی آئی کے احتجاج اور پولیس پر تشدد کے معاملے میں علیمہ خان اور عظمیٰ خان کی عبوری ضمانت میں 18 جنوری تک توسیع کر دی گئی۔
سماعت کی تفصیلات:
کیس کی سماعت اے ٹی سی ایڈمن جج منظر علی گل نے کی، جبکہ انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ارشد جاوید نے 3 درخواست ضمانتوں پر سماعت کی۔درخواست گزار علیمہ خان، عظمیٰ خان اور سلمان اکرم راجہ سمیت دیگر افراد عدالت میں پیش ہوئے۔
جناح ہاؤس حملہ کیس:
تفتیشی افسر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ علیمہ خان اور عظمیٰ خان شامل تفتیش ہو چکی ہیں اور ان کے بیانات قلمبند کر لیے گئے ہیں۔تفتیشی افسر نے مزید کہا کہ جناح ہاؤس حملہ کیس میں ان دونوں کی حد تک تفتیش مکمل نہیں ہوئی۔
علیمہ خان کا موقف:
علیمہ خان نے روسٹرم پر جج منظر علی گل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا،"ہم ڈیڑھ سال سے عدالت میں پیش ہو رہے ہیں، آپ سے پہلے کئی ججز نے کیس کی سماعت کی ہے۔ پہلے تفتیشی افسر حاضر نہیں ہوتا تھا، اب بھی تفتیش مکمل نہیں ہو رہی۔"انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ تفتیش کے عمل کو جلد مکمل کیا جائے تاکہ انصاف فراہم ہو سکے۔
موجودہ صورتحال:
عدالت نے سماعت کے بعد علیمہ خان اور عظمیٰ خان کی عبوری ضمانت میں 18 جنوری تک توسیع کر دی اور تفتیشی عمل کو جلد مکمل کرنے کی ہدایت دی۔یہ کیس پی ٹی آئی کے احتجاج اور جناح ہاؤس حملے سے منسلک اہم قانونی کارروائیوں میں سے ایک ہے، جس پر سیاسی اور قانونی حلقوں کی نظر ہے۔