پشاور: خیبر پختونخوا حکومت کے مشیر اطلاعات اور ترجمان بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا ہے کہ صوبے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے افغانستان سے باضابطہ بات چیت کا آغاز ناگزیر ہوچکا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ مقامی جرگے بھی اس بات پر متفق ہیں کہ افغانستان سے مذاکرات ہی دیرپا حل کی طرف پہلا قدم ہو سکتا ہے۔اپنے بیان میں بیرسٹر سیف نے کہا کہ ضم شدہ اضلاع سمیت خیبر پختونخوا کے کئی علاقے افغانستان سے ملحق 2200 کلومیٹر طویل سرحد کے ساتھ واقع ہیں، اس لیے افغانستان کو اعتماد میں لیے بغیر مکمل امن ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان ایک اہم اسٹیک ہولڈر ہے جس کا کردار نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
مشترکہ جرگے کی تجویز
بیرسٹر سیف نے زور دیا کہ افغانستان سے مذاکرات کے لیے صوبائی، وفاقی حکومت اور قبائلی عمائدین پر مشتمل ایک مشترکہ جرگے کی تشکیل انتہائی ضروری ہے۔ ان کے مطابق مقامی سطح پر جاری مشاورت کے بعد ایک گرینڈ جرگہ بلایا جائے گا، جو پائیدار امن کے لیے جامع سفارشات مرتب کرے گا۔
وزیراعلیٰ کی قیادت میں سنجیدہ اقدامات
انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کی قیادت میں امن کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔ اس سلسلے میں مختلف علاقوں میں مقامی جرگے منعقد کیے جا رہے ہیں، جن میں عوامی نمائندے، قبائلی زعما، علمائے کرام اور سیکیورٹی اداروں کے نمائندے شامل ہوتے ہیں۔بیرسٹر سیف کے مطابق یہ جرگے اگلے ہفتے تک مکمل کر لیے جائیں گے، جس کے بعد جلد ہی ایک گرینڈ جرگہ منعقد کیا جائے گا۔
امن کی راہ میں افغانستان کا کردار
ترجمان نے کہا کہ بارڈر ایریاز میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے اور دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لیے افغانستان کے ساتھ اعتماد سازی اور مشاورت کلیدی اہمیت رکھتی ہے۔ ان کے بقول، دوطرفہ تعاون کے بغیر دیرپا امن کا خواب پورا نہیں ہو سکتا۔