مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے حالیہ جرگے میں صوبے کے حقوق کا بھرپور اور کامیاب مقدمہ لڑا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ضم شدہ اضلاع کے فنڈز کی منتقلی میں مسلسل تاخیر ان علاقوں کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔بیرسٹر سیف کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کو ضم اضلاع کے فنڈز کی فوری منتقلی اور بجلی کے خالص منافع کے بقایاجات سے متعلق تفصیلات سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق اب وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان اہم قومی معاملات پر سیاست کرنے کے بجائے فوری اقدام کرے۔انہوں نے واضح کیا کہ ضم اضلاع اب خیبر پختونخوا کا باقاعدہ حصہ بن چکے ہیں، اس لیے وفاق کا ان کے فنڈز روکنا نہ صرف غیر آئینی بلکہ ناقابلِ قبول ہے۔ ان علاقوں کی محرومیوں کا ازالہ وفاق اور صوبے دونوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔بیرسٹر سیف کا کہنا تھا کہ ضم اضلاع کی ترقی دہشت گردی کے خاتمے کی ضمانت ہے، کیونکہ پسماندگی اور محرومی دہشت گرد عناصر کے لیے زمین ہموار کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی صرف خیبر پختونخوا کا نہیں بلکہ پورے پاکستان کا مسئلہ ہے، اس لیے وفاقی حکومت کو سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ بجلی کے خالص منافع کے بقایاجات بھی فوری ادا کیے جائیں تاکہ صوبہ اپنی مالی ضروریات پوری کر کے ترقیاتی منصوبے شروع کر سکے۔ مشیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کو نظر انداز کرنا وفاق کے مفاد کے خلاف ہے، اور یہ طرز عمل قومی یکجہتی کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔بیرسٹر سیف نے زور دے کر کہا کہ وفاقی حکومت کو سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر قومی اور آئینی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہییں تاکہ ضم اضلاع کے عوام کو بھی برابری کے حقوق حاصل ہوں۔