لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ امریکا، پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار اور قابلِ اعتماد اقتصادی پارٹنر ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور میں تعینات ہونے والے امریکا کے نئے قونصل جنرل اسٹیٹسن سینڈرز سے ملاقات کے دوران کیا۔وزیراعلیٰ نے اسٹیٹسن سینڈرز کو لاہور آمد پر خوش آمدید کہا اور انہیں قونصل جنرل کا عہدہ سنبھالنے پر دلی مبارکباد پیش کی۔ ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور بشمول تجارتی تعلقات، توانائی تعاون، ٹیکنالوجی، زراعت اور تعلیمی تبادلے پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔وزیراعلیٰ مریم نواز نے کہا کہ اسٹیٹسن سینڈرز کی تعیناتی ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب پاک امریکا تعلقات میں مثبت پیش رفت ہو رہی ہے۔ انہوں نے اس تعلق کو قابل اعتماد، مستحکم اور دور رس شراکت داری قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط ہیں۔مریم نواز نے کہا کہ عوامی رابطے، تجارتی تعاون اور مشترکہ مفادات نے اس پارٹنرشپ کو مزید مضبوط بنایا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ 2024 میں پاک امریکا تجارتی حجم میں اضافہ ایک خوش آئند امر ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امریکا، پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے اور یہ تعلق وقت کے ساتھ مزید گہرا ہو رہا ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے ملاقات کے دوران اس بات کا بھی ذکر کیا کہ پاکستانی نژاد امریکی برادری دونوں ملکوں کے درمیان عوامی رابطے کی مضبوط کڑی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اپریل 2025 میں امریکی کانگریشنل پاکستان کاکس سے ملاقات بھی کر چکی ہیں۔مریم نواز نے پنجاب کی صلاحیتوں پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ صوبے میں ہر سال 20 ہزار سے زائد آئی ٹی گریجویٹس فارغ التحصیل ہو رہے ہیں، جو عالمی سطح پر بھی صلاحیتوں کا لوہا منوا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب، پاکستان کی زرعی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے اور یہاں حکومت واٹر ایفی شنٹ فارمنگ، پریسیژن ایگریکلچر اور کولڈ چین انفراسٹرکچر کی ترقی کو ترجیح دے رہی ہے۔انہوں نے امریکی ایگریکلچر اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کو پنجاب میں سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھانے کی دعوت دی اور کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلق کو جامع، سٹریٹجک اور عوامی مفاد پر مبنی شراکت داری میں بدلنے کے لیے پرعزم ہیں۔ملاقات میں وزیراعلیٰ پنجاب نے بتایا کہ صوبے میں جدید الیکٹرک ٹرین کا منصوبہ شروع کیا جا رہا ہے، جبکہ "اپنی چھت، اپنا گھر" پروگرام کے تحت قلیل مدت میں عوامی رہائش کے شعبے میں ایک قابل تقلید مثال قائم کی گئی ہے۔