پی ٹی آئی کے درجنوں کارکنوں کیخلاف مقدمات‘14اگست کو ملک بھر میں احتجاج پر غور

 ارکان  پارلیمنٹ سپریم کورٹ کے باہر احتجاج کریں گے تاکہ عدلیہ کی توجہ آئینی اور قانونی امور پر مبذول کرائی جا سکے:اجلاس میں فیصلے
 5اگست کا احتجاج کامیاب ہوا، عوام نے ثابت کیا عمران خان کیساتھ ہیں،  ہم پر امن لوگ ہیں، اس بار بھی پر امن احتجاج ہوا:بیرسٹر گوہر
لاہور‘اسلام آباد(آئی این پی ) لاہور میں 5 اگست کو بلااجازت احتجاج کرنے پر 10 مقدمات درج کر  لئے گئے۔مقدمات میں بغاوت، کار سرکار میں مداخلت اور چوری کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔مقدمات ماڈل ٹائون، لیاقت آباد، کوٹ لکھپت، چوہنگ، نواب ٹائون اور ملت پارک کے تھانوں میں درج کئے گئے ہیں۔ایف آئی آر کے متن کے مطابق پی ٹی آئی کے مشتعل کارکنوں نے احتجاج کے دوران پولیس اہلکاروں پر حملے کیے، مظاہرین نے حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور پولیس اہلکاروں کی وردیاں پھاڑیں۔اسلام آباد میں تحریک انصاف کے 16 مرد و خواتین کارکنان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا‘دریں اثناء پی ٹی آئی نے اپنے اراکین اسمبلی و سینیٹ کی نااہلی کے خلاف اور آئندہ کی حکمت عملی کے سلسلے میں سپریم کورٹ کے باہر احتجاج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان کی زیرصدارت پارلیمانی پارٹی کے اہم اجلاس میں کیا گیا۔اجلاس میں شریک ذرائع نے بتایا کہ پارلیمانی پارٹی نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا ہے کہ پی ٹی آئی کے اراکینِ پارلیمنٹ سپریم کورٹ کے باہر احتجاج کریں گے تاکہ عدلیہ کی توجہ آئینی اور قانونی امور پر مبذول کرائی جا سکے۔اجلاس میں ایوان کے اندر احتجاجی حکمت عملی اور قائدین کی نااہلیوں کو چیلنج کرنے کے لیے قانونی آپشنز پر بھی غور کیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ 14 اگست کے موقع پر ملک گیر احتجاج کے امکان پر بھی سنجیدگی سے غور کیا گیا ہے جس پر حتمی فیصلہ جلد متوقع ہے‘چیئرمین  پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا ہے  5اگست کا احتجاج کامیاب ہوا، عوام سڑکوں پر آئے اور آواز اٹھائی۔ ہم پر امن لوگ ہیں، کل بھی پر امن احتجاج ہوا، کل عوام نے ثابت کیا کہ بانی پی ٹی آئی کے ساتھ ہے۔