اسرائیلی انٹیلی جنس کی ایک بڑی ناکامی سامنے آئی ہے جہاں بیروت میں کیے گئے ایک فضائی حملے میں حزب اللہ کے رہنما کو نشانہ بنانے کے بجائے غلطی سے اسرائیل کے اپنے حامی کو ہلاک کر دیا گیا۔
رپورٹس کے مطابق، گزشتہ رات بیروت میں ایک عمارت کو خفیہ معلومات کی بنیاد پر نشانہ بنایا گیا، مگر بعد میں معلوم ہوا کہ فراہم کردہ معلومات درست نہیں تھیں۔ اس حملے میں ہلاک ہونے والا شخص حزب اللہ سے وابستہ نہیں بلکہ اس کا مخالف اور اسرائیل کا حامی تھا۔ اس واقعے کے بعد اسرائیلی فوج نے اس غلطی کا اعتراف کیا اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اپنی حمایتی فورس سے معذرت کی۔ یہ فورس حزب اللہ کی مخالف سیاسی و عسکری تنظیم سمجھی جاتی ہے۔
دریں اثنا، حزب اللہ اور اسرائیلی فوج کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں۔ حزب اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے جدید ڈرونز کے ذریعے اسرائیلی بکتر بند گاڑیوں اور ٹینکوں کو نشانہ بنایا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس واقعے نے اسرائیلی انٹیلی جنس کی کارکردگی پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں اور خطے میں جاری کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔ یہ حادثہ اسرائیلی حکمت عملی اور انٹیلی جنس کی کمزوریوں کو ظاہر کرتا ہے، جس سے علاقائی صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔