اسرائیل نے امریکا کے ذریعے سعودی عرب کو یمن کے حوثی جنگجوؤں سے متعلق انٹیلی جنس معلومات فراہم کرنا شروع کردی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق اس تعاون کا مقصد حوثیوں کی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والے ممکنہ خطرات کی نشاندہی اور بحیرۂ احمر سے آبنائے باب المندب تک اہم بحری راستوں کی سکیورٹی بہتر بنانے میں مدد دینا ہے۔اسرائیلی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب نے حوثیوں سے متعلق معلومات کے حصول کے لیے امریکا سے تعاون طلب کیا تھا، جس کے بعد واشنگٹن نے یہ معاملہ اسرائیل کے سامنے اٹھایا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل حوثیوں کی سرگرمیوں سے متعلق اپنے فوجی تجربے اور دستیاب معلومات کی بنیاد پر سعودی عرب کی مدد کر رہا ہے۔
امریکا کے ذریعے انٹیلی جنس تعاون
رپورٹس کے مطابق انٹیلی جنس تعاون کے اس معاملے میں امریکا رابطہ کاری کا کردار ادا کر رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق واشنگٹن نے سعودی عرب کی جانب سے معلومات کے حصول کی درخواست کے بعد اسرائیل سے تعاون کے امکانات پر بات کی۔اس پیش رفت کو خطے میں سکیورٹی تعاون کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، تاہم انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے کی نوعیت، دائرہ کار اور عملی طریقۂ کار سے متعلق تفصیلات رپورٹ میں واضح نہیں کی گئیں۔
قاہرہ میں سکیورٹی مذاکرات
اسرائیلی میڈیا کے مطابق قاہرہ میں ہونے والے سکیورٹی مذاکرات کے دوران بھی امریکی نمائندوں نے حوثیوں سے پیدا ہونے والے خطرات اور ان کے مقابلے کے لیے ممکنہ تعاون پر بات کی۔مذاکرات میں اہم بحری گزرگاہوں کو محفوظ رکھنے اور خطے میں بحری سلامتی سے متعلق خدشات پر توجہ دی گئی۔ رپورٹ کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ کے نمائندے بھی سکیورٹی سے متعلق بات چیت میں شریک تھے۔
سعودی ولی عہد اور مصری صدر کی ملاقات کا تناظر
یہ پیش رفت سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی کی قاہرہ میں ہونے والی ملاقات کے تناظر میں سامنے آئی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان علاقائی سلامتی اور خطے کی صورت حال اہم موضوعات میں شامل ہیں۔تاہم دستیاب رپورٹ میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ انٹیلی جنس تعاون سے متعلق پیش رفت کا مذکورہ ملاقات کے ساتھ براہِ راست کیا تعلق ہے۔
مشترکہ علاقائی سکیورٹی نظام کی تجویز
رپورٹ کے مطابق امریکا نے حوثیوں سے لاحق خطرات کا مقابلہ کرنے اور اہم بحری راستوں کی حفاظت کے لیے ایک مشترکہ علاقائی سکیورٹی نظام قائم کرنے کی تجویز بھی پیش کی ہے۔بحیرۂ احمر اور آبنائے باب المندب بین الاقوامی بحری تجارت کے لیے اہم گزرگاہیں ہیں، اس لیے ان علاقوں میں سکیورٹی کی صورت حال کو علاقائی اور عالمی سطح پر اہمیت حاصل ہے۔